ہفتہ، 15-اگست،2026
ہفتہ 1448/03/02هـ (15-08-2026م)

ایران جنگ میں امریکی ڈرون طاقت کو بڑا نقصان، چوتھائی ایم کیو 9 ریپرز ختم ہوگئے

15 اگست, 2026 10:31

ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکا کو اپنے جدید ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران تقریباً 45 ڈرونز ضائع ہوچکے ہیں، جو امریکی بیڑے کا تقریباً ایک چوتھائی بنتے ہیں۔

رپورٹ میں امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متعدد ایم کیو 9 ریپر ڈرونز آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی کارروائیوں کا نشانہ بنے، جبکہ کچھ ڈرونز امریکی آپریٹرز سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد گر کر تباہ ہوئے۔

اس طرح امریکی ڈرون بیڑے کو پہنچنے والے مجموعی نقصان میں صرف ایرانی فضائی دفاع کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ڈرونز ہی شامل نہیں بلکہ حادثاتی نقصانات بھی شامل ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تقریباً 45 ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے نقصان کی مجموعی مالیت تقریباً 1.3 ارب ڈالر بنتی ہے۔ اس نقصان کا بالواسطہ مالی بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان پر پڑنے کا امکان ہے۔

ایم کیو 9 ریپر امریکی فوج کے اہم نگرانی اور حملہ آور ڈرونز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ طویل عرصے تک فضا میں رہ کر نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے اور ضرورت پڑنے پر اہداف کے خلاف حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈرون میں جدید سینسرز اور مختلف ہتھیار نصب کیے جاسکتے ہیں، جس کے باعث اسے جنگی علاقوں میں اہم اہداف کی نگرانی اور کارروائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کا علاقہ امریکی فوج کے لیے انتہائی حساس بن چکا ہے۔

محدود جغرافیائی علاقے اور ایرانی فضائی دفاع کی موجودگی کے باعث کم رفتار اور نسبتاً کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز کو زیادہ خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متعدد ریپر ڈرونز کو اسی علاقے میں نقصان پہنچا، تاہم ہر نقصان کو براہ راست ایرانی حملے کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

رپورٹ میں اس حوالے سے ایک اہم وضاحت بھی کی گئی ہے کہ امریکا کے ضائع ہونے والے تمام 45 ڈرونز کو ایران نے مار گرایا ہو، یہ ضروری نہیں۔

کچھ ڈرونز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا زمینی آپریٹرز سے رابطہ منقطع ہوا، جس کے بعد وہ حادثات کا شکار ہوگئے۔

اس لیے مجموعی تعداد میں ایرانی کارروائیوں کے علاوہ تکنیکی خرابیوں، رابطے کے مسائل یا دیگر آپریشنل وجوہات سے ہونے والے نقصانات بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

ایم کیو 9 ریپر تیار کرنے والی کمپنی جنرل ایٹمکس ہے، تاہم امریکی محکمہ جنگ مستقبل میں اس پلیٹ فارم کو بتدریج تبدیل کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

امریکی دفاعی منصوبہ بندی میں نسبتاً کم قیمت ایسے ڈرونز پر توجہ دی جارہی ہے جو نگرانی کے ساتھ حملے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں اور بڑی تعداد میں ایک ساتھ استعمال کیے جاسکیں۔

ایسی حکمت عملی کا مقصد مہنگے ڈرونز کے بڑے پیمانے پر نقصان کی صورت میں امریکی فوج کے مالی اور آپریشنل دباؤ کو کم کرنا بھی ہے۔

ایران جنگ میں ریپر ڈرونز کا نقصان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی یوکرین کو طویل عرصے تک فوجی امداد فراہم کرنے کے باعث اپنے بعض ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ذخائر پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

امریکی میڈیا میں اس سے قبل بھی ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ مختلف محاذوں پر مسلسل فوجی سازوسامان کے استعمال سے واشنگٹن کو اپنے دفاعی ذخائر اور پیداواری صلاحیت کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہیں۔

تاہم امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس تاثر کو مسترد کیا جاتا رہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس مطلوبہ کارروائیوں کے لیے وسائل ختم ہورہے ہیں۔

ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے بڑھتے اخراجات کے ساتھ امریکی انتظامیہ کو ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی دوبارہ فراہمی کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے کانگریس سے تقریباً 67 ارب ڈالر اضافی فنڈز طلب کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اس رقم کا مقصد جنگی اخراجات، استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ بھرنے اور امریکی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔

ایران جنگ میں ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کا نقصان امریکی فوج کے لیے ایک اہم آپریشنل چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔

یہ ڈرونز ماضی میں انسدادِ دہشت گردی اور کم شدت والی جنگی کارروائیوں میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئے ہیں، تاہم جدید فضائی دفاعی نظام رکھنے والے مخالف کے خلاف ان کی بقا ایک مختلف نوعیت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔

تقریباً 45 ریپر ڈرونز کا نقصان، چاہے ان میں ایرانی کارروائیوں اور حادثاتی نقصانات دونوں شامل ہوں، امریکی ڈرون آپریشنز پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے اور مستقبل کی جنگوں میں کم لاگت، زیادہ تعداد اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ڈرونز کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔