افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان رجیم کا بھارت سے بڑھتا گٹھ جوڑ خطے کیلئے سنگین چیلنج کا باعث

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بھارت اور افغان طالبان کے درمیان سفارتی و سیاسی روابط میں نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں سکیورٹی، دہشتگردی اور پاکستان کی سلامتی سے متعلق نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
عالمی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت اور افغان طالبان کے سفارتی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں جانب سے رابطوں اور سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان میں موجود بعض دہشتگرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں حملوں اور دراندازی کے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔
پاکستانی قیادت کئی مواقع پر افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرچکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی واضح کرچکے ہیں کہ افغان حکام کو دہشتگردی کے خاتمے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے واضح پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی افغان طالبان اور بھارت کے مبینہ روابط پر تشویش کا اظہار کیا جاچکا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت اور افغانستان میں موجود بعض عناصر کے درمیان روابط خطے میں سکیورٹی کے لیے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب افغان فوج کے سابق جنرل سمیع سادات اور سابق افغان انٹیلی جنس سربراہ مسعود اندرابی کی جانب سے بھی ماضی میں طالبان اور بھارت کے روابط اور پاکستان مخالف عسکری گروہوں سے متعلق مختلف دعوے سامنے آچکے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ضروری ہے۔
افغانستان اور بھارت کے تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور زرعی شعبوں میں بھی تعاون بڑھا ہے۔ بھارتی دورے کے دوران افغان وزیر زراعت مولوی عطاء اللہ عمری کی جانب سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات کے حوالے سے بیان بھی سامنے آیا، جسے خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صف بندی کے تناظر میں دیکھا گیا۔
پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان سے ہونے والی دراندازی اور دہشتگرد حملوں کے بعض واقعات میں افغان شہریوں یا افغانستان میں موجود گروہوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے افغان عبوری حکومت کو اپنی سرزمین پر موجود مسلح گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے روابط پاکستان کے لیے ایک اہم سکیورٹی چیلنج بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاک افغان سرحدی صورتحال اور دہشتگردی کے معاملات پہلے ہی حساس ہیں۔
تاہم خطے کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے مختلف فریقوں کے مؤقف اور دستیاب شواہد کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔ افغانستان، بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کسی بھی الزام یا دعوے کی آزادانہ تصدیق خطے میں درست معلومات اور ذمہ دارانہ تجزیے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











