اتوار، 16-اگست،2026
اتوار 1448/03/03هـ (16-08-2026م)

جنگ کے بعد ایران کے معاشی مسائل کئی گنا بڑھ گئے، ایرانی صدر

16 اگست, 2026 12:28

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد ملک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

 ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ جنگ نے پہلے سے موجود اقتصادی مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تیل کی آمدنی میں کمی اور صنعتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان نے حکومت کے لیے حالات مشکل بنا دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی معیشت پر دباؤ کی ایک بڑی وجہ حکومت کی آمدنی میں کمی ہے۔ جنگ کے دوران تیل کی فروخت متاثر ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ریاست کو حاصل ہونے والی آمدنی بھی کم ہوگئی۔ ایران کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تیل ملکی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ملک میں قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں اخراجات میں اضافہ اور حکومتی آمدنی میں کمی بھی شامل ہے۔ جنگ کے باعث ایران کو کئی شعبوں میں اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پزشکیان نے درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران اپنی ضروری اشیا نسبتاً آسان اور براہ راست راستوں سے درآمد کرتا تھا۔ موجودہ حالات میں سامان مختلف متبادل راستوں سے ملک تک پہنچ رہا ہے۔ اس وجہ سے درآمدی اشیا کی لاگت بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک کو سامان پہنچانے کے لیے زیادہ پیچیدہ راستے اختیار کرنا پڑیں تو اس کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہی اضافی اخراجات آخرکار صارفین تک پہنچتے ہیں۔ اس صورتحال نے ایران میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایرانی صدر نے صنعتی شعبے کو پہنچنے والے نقصان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران متعدد فیکٹریوں اور صنعتی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ کئی اداروں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ اس کا براہ راست اثر ملکی پیداوار پر پڑا۔

پزشکیان کے مطابق صنعتی اداروں کے بند ہونے یا ان کی پیداوار کم ہونے سے حکومت کی ٹیکس آمدنی بھی متاثر ہوئی ہے۔ فیکٹریاں معمول کے مطابق کام نہ کریں تو ان سے حاصل ہونے والا ٹیکس بھی کم ہوجاتا ہے۔ اس طرح حکومت کی آمدنی میں مزید کمی آتی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ حکومت بعض فیکٹریوں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کررہی ہے۔ اس طرح ریاست کو ایک ہی وقت میں آمدنی میں کمی اور اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔

پزشکیان نے موجودہ صورتحال کو حکومت کے لیے دوہرا مالی دباؤ قرار دیا۔ ایک جانب تیل کی فروخت اور ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ہوگئی ہے۔ دوسری جانب جنگ سے متاثرہ شعبوں کی بحالی کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ملک کے معاشی مسائل پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کی مالی گنجائش بھی محدود ہوئی ہے۔ اس کے باوجود بنیادی ضروریات اور متاثرہ شعبوں کو سہارا دینا حکومت کے لیے ضروری ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔