18 اگست سے پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان، نئی قیمتوں کا جائزہ آج ہوگا

50 Percent Petrol Reduction Announced
اسلام آباد: پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں 18 اگست سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان پیدا ہوگیا۔
یومِ آزادی کی سرکاری تعطیل اور اس کے بعد تعطیلات کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ جائزے کا عمل عارضی طور پر متاثر ہوا، تاہم اب نئی قیمتوں کے تعین کا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔
13 اگست کو دستیاب آخری روزانہ جائزے میں پیٹرول کی قیمت 325.43 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 383.95 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔ 14 اگست کو سرکاری تعطیل کے باعث نئی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ 15، 16 اور 17 اگست کے لیے بھی موجودہ نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
موجودہ شیڈول کے مطابق پیر 17 اگست کو اوگرا عالمی مارکیٹ کے تازہ اعداد و شمار، سات ورکنگ دنوں کی اوسط، درآمدی لاگت اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر سمیت دیگر متعلقہ عوامل کا جائزہ لے گا۔
اسی حساب کی بنیاد پر 18 اگست سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں نافذ ہونے کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
پیر 17 اگست کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 89.40 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 82.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
گزشتہ ہفتے بھی برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی شامل ہیں۔
موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ابتدائی اندازوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 1 سے 3 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 سے 5 روپے فی لیٹر اضافے کا دباؤ بن سکتا ہے۔
تاہم یہ حتمی پیش گوئی نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کی بنیاد پر ابتدائی تخمینہ ہے۔ حتمی قیمت کا تعین عالمی مصنوعات کی قیمت، درآمدی لاگت، ڈالر کے تبادلے کی شرح، فریٹ، پریمیم، حکومتی لیویز اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
پاکستان کے لیے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ملک اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں غیر معمولی کمی نے عالمی سپلائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ہفتے کو صرف 5 کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ اتوار کو کوئی جہاز نہیں گزرا۔ اس کے مقابلے میں ایک ہفتہ قبل اسی عرصے میں 31 جہاز اس راستے سے گزرے تھے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل کا انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے یہاں طویل رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
اگر برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر مستحکم رہتی ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق سپلائی کے خدشات برقرار رہتے ہیں تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔
تاہم عالمی خام تیل کی قیمت میں ایک روزہ اضافہ لازماً اسی تناسب سے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل نہیں ہوتا، کیونکہ مقامی قیمت کے تعین میں مخصوص مدت کی عالمی قیمتوں کی اوسط اور دیگر درآمدی اخراجات بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
اب صارفین کی نظریں 17 اگست کے قیمتوں کے جائزے پر ہیں، جس کے بعد واضح ہوگا کہ 18 اگست سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، کم ہوتی ہیں یا موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












