میر رضا قتل کیس: مالی معاملات اور 50 لاکھ روپے کا قرض تفتیش کا اہم رخ بن گئے

کراچی کے میر رضا قتل کیس میں مالی معاملات اور قرضوں کی واپسی تفتیش کا اہم رخ بن گئے، پولیس نے موبائل اور اسمارٹ واچ پنجاب فرانزک لیب بھجوا دیئے۔
کراچی میں پیش آنے والے ہائی پروفائل میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں مالی معاملات تفتیش کا بنیادی اور اہم رخ بن گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق قرض داروں نے میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد سے بھی رابطہ کیا تھا، جس پر تفتیشی ٹیم نے محمد احمد سے تقریباً 3 گھنٹے تک تفصیلی پوچھ گچھ کی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ میر رضا سے قرض کی واپسی کے لیے 3 سے 4 افراد نے رابطہ کیا تھا، جن میں سے بعض افراد نے 25 لاکھ جبکہ بعض نے 50 لاکھ روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : میر رضا کیس میں بڑی پیش رفت، مشکوک گیسٹ ہاؤس سیل اور 6 افراد گرفتار
تفتیشی حکام کی جانب سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے والے تمام افراد کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور کیس میں مزید اہم شخصیات کو شاملِ تفتیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
دوسری جانب تفتیشی ٹیم کے ممبر انسپکٹر غلام نبی آفریدی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، تاہم تاحال جائے وقوعہ سے کوئی نیا اہم ثبوت نہیں مل سکا۔
پولیس کی جانب سے مقتول کے گھر سے لے کر جائے وقوعہ تک مزید سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ مقتول کی فیملی کے تحفظات کے بعد میر رضا کی اسمارٹ واچ اور موبائل فون این سی سی آئی اے سے واپس لے کر پنجاب فرانزک لیب بھجوا دیئے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب لیب سے رپورٹ آنے میں 5 سے 7 روز کا وقت لگے گا اور امید ہے کہ موبائل فون اور اسمارٹ واچ سے اہم شواہد ملیں گے۔ واضح رہے کہ 20 روز گزر جانے کے باوجود پولیس کو اس کیس میں تاحال کوئی مضبوط لیڈ نہیں مل سکی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












