شدید گرمی میں بھی پرسکون نیند ممکن، ماہرین نے آسان طریقے بتا دیے
موسم گرما میں شدید گرمی اور حبس کے باعث رات کو پرسکون نیند لینا مشکل ہوجاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق چند سادہ تدابیر اختیار کرکے گرم راتوں میں بھی بہتر نیند حاصل کی جاسکتی ہے۔
ماہرینِ نیند کے مطابق گرمی میں نیند متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ جسم کا اندرونی درجہ حرارت ہے۔ عام حالات میں رات کے وقت جسم کا درجہ حرارت قدرتی طور پر کم ہوتا ہے، جس سے دماغ میں میلاٹونن ہارمون کے اخراج میں مدد ملتی ہے اور جسم نیند کے لیے تیار ہوتا ہے۔
شدید گرمی میں جسم مطلوبہ حد تک ٹھنڈا نہیں ہو پاتا۔ پسینہ آنا اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی مسلسل کوشش نیند کے معمول میں خلل ڈالتی ہے۔ اس دوران بار بار کروٹیں بدلنا، گھڑی دیکھنا اور صبح تھکن کے خدشے سے پریشان ہونا ذہنی دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے، جس سے نیند مزید مشکل ہوجاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرمی کے باعث بستر پر لیٹنے کے باوجود نیند نہ آرہی ہو تو زبردستی سونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ کچھ دیر کے لیے بستر سے اٹھ کر جسم کو ٹھنڈا کرنا بہتر ہے، اور جب دوبارہ غنودگی محسوس ہو تو بستر پر واپس آنا چاہیے۔
گرم راتوں میں بہتر نیند کے لیے کیا کریں؟
دن کے وقت کمرے کے پردے یا بلائنڈز بند رکھیں تاکہ براہ راست دھوپ اور گرمی اندر داخل نہ ہو۔ اگر رات کے وقت باہر کا درجہ حرارت کم ہوجائے تو کھڑکیاں کھول کر ہوا کی آمدورفت بہتر بنائی جاسکتی ہے۔
اگر بیڈروم میں ایئر کنڈیشنر موجود نہ ہو تو گھر کے نسبتاً ٹھنڈے حصے یا نچلی منزل پر سونا بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
سونے کے لیے سوتی یا لینن کی ہلکی چادریں استعمال کریں، کیونکہ ان کپڑوں میں ہوا آسانی سے گزر سکتی ہے۔ موٹی چادروں اور ایسے کپڑوں سے گریز کریں جو جسم کے ساتھ گرمی برقرار رکھتے ہیں۔ اسی طرح ڈھیلے اور ہلکے لباس میں سونا زیادہ آرام دہ ہوسکتا ہے۔
گردن یا کلائیوں پر ٹھنڈا اور گیلا تولیہ رکھنے سے جسم کو وقتی ٹھنڈک مل سکتی ہے۔ تکیے کا غلاف کچھ دیر ٹھنڈی جگہ پر رکھنے یا پنکھے کے قریب برف سے بھرا برتن رکھنے سے بھی ماحول کو قدرے ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے۔
سونے سے پہلے کن چیزوں سے پرہیز کریں؟
ماہرین کے مطابق رات کو سونے سے قبل کیفین اور الکحل سے گریز کرنا بہتر ہے، کیونکہ یہ نیند کے معیار کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اسی طرح سونے کے بالکل قریب بھاری کھانا کھانے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔
گرمی میں مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے، تاہم سونے سے عین قبل بہت زیادہ پانی پینے سے رات کے دوران بار بار واش روم جانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے، جس سے نیند متاثر ہوسکتی ہے۔
رات گئے سخت ورزش کرنے سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے، اس لیے شدید ورزش دن کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات، خصوصاً صبح کے وقت کرنا بہتر ہے۔
کن افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے؟
ماہرین کے مطابق بزرگ افراد، شیر خوار بچوں، کم عمر بچوں اور پالتو جانوروں کو شدید گرمی سے زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ کم عمر بچوں میں جسمانی درجہ حرارت کو منظم کرنے کا نظام مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا۔
اگر شدید گرمی کے دوران کسی شخص کو ذہنی الجھن، بے ہوشی، غیر معمولی کمزوری، پسینہ آنا بند ہونے یا جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو یہ ہیٹ اسٹروک کی نشانی ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرم راتوں میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیند نہ آنے پر گھبراہٹ اور غصے سے گریز کیا جائے۔ ذہنی دباؤ جسم کو مزید متحرک رکھ سکتا ہے اور نیند کے عمل کو مشکل بنا سکتا ہے۔ کمرے اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے ساتھ ذہن کو پرسکون رکھنا بھی گرم موسم میں بہتر نیند کے لیے اہم ہے۔
Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.













