جمعرات، 20-اگست،2026
جمعرات 1448/03/07هـ (20-08-2026م)

توند کی چربی کم کرنے میں کافی کتنی مددگار؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

20 اگست, 2026 09:49

پیٹ اور کمر کے گرد جمع ہونے والی چربی کو طبی زبان میں ویسرل فیٹ کہا جاتا ہے۔ یہ جسمانی چربی کی ان اقسام میں شامل ہے جو صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ یہ اندرونی اہم اعضا کے گرد جمع ہوسکتی ہے۔

ویسرل فیٹ کی زیادتی کو امراض قلب، ٹائپ 2 ذیابیطس اور دیگر میٹابولک مسائل کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف زیادہ وزن والے افراد ہی اس چربی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ بظاہر دبلے پتلے افراد کے پیٹ کے گرد بھی اضافی چربی جمع ہوسکتی ہے۔

تاہم ایک نئی تحقیق میں کافی کے استعمال اور جسم میں چربی کی مقدار کے درمیان ایک دلچسپ تعلق سامنے آیا ہے۔

فن لینڈ کی اولو یونیورسٹی سے وابستہ محققین کی تحقیق میں کافی پینے کی عادت اور جسمانی ساخت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں 1966 سے جاری ایک طویل مدتی سروے میں شامل 2,264 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن کی اوسط عمر 46 سال تھی۔

تحقیق کے دوران شرکا کی کافی پینے کی عادات اور ان کی صحت سے متعلق مختلف عوامل کا جائزہ لیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جو افراد باقاعدگی سے کافی پیتے تھے، ان میں مجموعی جسمانی چربی اور پیٹ کے گرد موجود چربی کی مقدار کافی نہ پینے والے افراد کے مقابلے میں کم تھی۔

تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کافی کے استعمال کے ساتھ بعض ایسے امینو ایسڈز کی مقدار کم تھی جنہیں انسولین کی مزاحمت اور ٹائپ 2 ذیابیطس سے منسلک کیا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق کافی کے استعمال کے اثرات مردوں میں زیادہ نمایاں نظر آئے۔ کافی پینے والے مردوں میں گلوکوز اور انسولین کی سطح سمیت بعض میٹابولک عوامل بہتر حالت میں دیکھے گئے۔

اس کے مقابلے میں خواتین کے ہارمونز پر کافی کے ایسے نمایاں اثرات نظر نہیں آئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ کافی استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود جسم کے ہارمونز اور میٹابولزم پر کافی کے اثرات کے بارے میں ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔

تحقیق کے نتائج سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کافی میں موجود بعض مرکبات جسم کے میٹابولزم پر اثر انداز ہوسکتے ہیں اور چربی کے ذخیرے سے متعلق بعض حیاتیاتی عمل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تاہم محققین نے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کافی کے کون سے مرکبات جسم میں یہ تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں اور ان کے پیچھے موجود حیاتیاتی طریقہ کار کیا ہے۔

تحقیق میں کافی کے استعمال اور کم جسمانی چربی کے درمیان تعلق ضرور سامنے آیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف کافی پینے سے توند کی چربی ختم ہوجائے گی۔

پیٹ کے گرد چربی کم کرنے کے لیے مجموعی طور پر متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، بہتر نیند اور کیلوریز کے توازن کو برقرار رکھنا زیادہ اہم ہے۔ اسی طرح کافی میں زیادہ چینی، کریم یا کیلوریز والی اضافی اشیا شامل کرنے سے اس کے ممکنہ فوائد متاثر ہوسکتے ہیں۔

اس لیے کافی کو صحت مند طرز زندگی کا متبادل سمجھنے کے بجائے متوازن خوراک اور باقاعدہ ورزش کے ساتھ استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے۔

تحقیق کے نتائج یورپین جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئے ہیں۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔