پیر، 24-اگست،2026
پیر 1448/03/11هـ (24-08-2026م)

جگر کے عام ترین عارضے سے بچنا ہے تو بس یہ ایک آسان کام کریں

24 اگست, 2026 13:30

جگر پر چربی جمع ہونے کا مسئلہ دنیا بھر میں تیزی سے عام ہو رہا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں اس بیماری سے بچاؤ کے حوالے سے ٹماٹر کے استعمال کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق روزانہ خوراک میں ٹماٹر شامل کرنے سے جگر میں جمع ہونے والی چربی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے نیوٹریشنز میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں جگر پر چربی کے عارضے میں مبتلا 79 افراد کو شامل کیا گیا۔ تحقیق کے لیے شرکا کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ دونوں گروپوں کو مختلف غذائی معمولات کے تحت رکھا گیا تاکہ ٹماٹر کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

ایک گروپ کے افراد کو ایسی مخصوص غذا دی گئی جس میں ٹماٹر شامل نہیں تھے۔ دوسرے گروپ کے شرکا کو روزانہ 200 گرام کچے ٹماٹر اور تقریباً 50 گرام ٹماٹو ساس استعمال کروائی گئی۔ یہ معمول مسلسل 6 ہفتوں تک جاری رہا۔

اس دوران ماہرین نے شرکا کی صحت پر نظر رکھی۔ کولیسٹرول کی سطح، جگر کی حالت اور جسم میں ہونے والی دوسری تبدیلیوں کو بھی ریکارڈ کیا گیا۔ تحقیق مکمل ہونے کے بعد دونوں گروپوں کے نتائج کا موازنہ کیا گیا۔

محققین نے دیکھا کہ دونوں گروپوں کے افراد میں جگر پر موجود چربی میں کمی ہوئی۔ تاہم ٹماٹر استعمال کرنے والے افراد میں یہ کمی نسبتاً زیادہ واضح تھی۔ مزید جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ ٹماٹر کے استعمال سے جگر میں چربی کے جمع ہونے میں کمی آ سکتی ہے۔ یہ اثر وزن کم ہونے کے بغیر بھی دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹماٹر میں موجود مختلف غذائی اجزا اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم صرف اس تحقیق کی بنیاد پر ٹماٹر کو جگر کی بیماری کا علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ محققین کے مطابق جگر پر چربی جمع ہونے کی کئی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے نتائج کی مزید تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے۔

اس کے باوجود تحقیق سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ ٹماٹر کو متوازن غذا کا حصہ بنانا جگر کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ٹماٹر میں ایسے اجزا بھی پائے جاتے ہیں جو مجموعی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق متوازن خوراک کے ساتھ ٹماٹر کا استعمال دل کی صحت کے لیے بھی بہتر ہو سکتا ہے۔

جگر پر چربی جمع ہونے والی بیماری کو عام طور پر نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جگر کی عام بیماریوں میں شامل ہے۔ اس میں جگر کے خلیوں میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں اکثر افراد کو اس بیماری کی واضح علامات محسوس نہیں ہوتیں۔ اسی وجہ سے کئی لوگوں میں یہ مسئلہ معمول کے طبی معائنے یا ٹیسٹ کے دوران سامنے آتا ہے۔ اگر بیماری بڑھ جائے تو جگر کے معمول کے افعال متاثر ہو سکتے ہیں۔

جگر میں زیادہ چربی کا تعلق دیگر میٹابولک مسائل سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپا شامل ہیں۔ وزن میں اضافہ، غیر متوازن خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی بھی جگر کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔

صحت مند جگر میں چربی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ جب چربی غیر معمولی حد تک بڑھنے لگے تو اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت مند غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور وزن کو متوازن رکھنا جگر کی بہتر صحت کے لیے اہم ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔