جنگ ہم نے شروع نہیں کی لیکن ختم جارح کے رحم و کرم پر نہیں ہوگی، ایرانی ترجمان

ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک کوئی ملک ایران کے خلاف جارحیت کے لیے اپنے فوجی اڈے یا سہولیات فراہم نہیں کرتا، اسے ایران سے کسی بھی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کو ایران سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر کوئی ملک اپنے فوجی اڈے، سہولیات یا تجهیزات ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے والی طاقتوں کو فراہم کرے گا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مغربی میڈیا میں یورپی سرزمین پر موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق رپورٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جارحیت میں کسی بھی قسم کا تعاون خود جارحانہ عمل شمار ہوتا ہے اور ایران اپنی زمین اور سلامتی کے دفاع میں کسی قسم کی نرمی نہیں دکھائے گا۔
ترجمان نے بلغاریہ کے فضائی اڈے سے امریکی کے سی 135 ٹینکر طیاروں کی منتقلی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے عوام اور سیاست دانوں نے بھی امریکی استعمال کے لیے اپنے ذرائع فراہم کرنے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کو اقوام متحدہ کے رکن ملک کے خلاف استعمال کے لیے سہولیات دینے والے تمام دیگر ممالک بھی صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ضروری اقدامات اٹھائیں گے اور ایران پر حملہ آور ہونے والی قوتوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی اہم دورے پر ایران پہنچ گئے
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے اس جنگ کا آغاز نہیں کیا، لیکن وہ اس جنگ کو جارح کی مرضی یا شرائط پر ختم بھی نہیں ہونے دے گا۔
انہوں نے صدر مسعود پزشکیان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کبھی بھی زور زبردستی یا تسلط پسندانہ مطالبات کے سامنے تسلیم نہیں ہوگی۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل سے متعلق متضاد دعوؤں کو دشمن کی میڈیا اور نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا اور کہا کہ امریکہ کی سخت ترین معاشی پابندیاں اور دباؤ کی پالیسی ایران کو جھکانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
ترجمان نے شامی سرزمین پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں شام کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ تل ابیب کے یہ اقدامات اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جو وہ غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور لبنان میں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ صیہونی حکومت کا اصل مقصد گریٹر اسرائیل کے غیر قانونی اور توسیع پسندانہ عزائم کو پورا کرنا ہے، جس کے خلاف خطے کے ممالک کو متحد ہونا پڑے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











