بدھ، 26-اگست،2026
بدھ 1448/03/13هـ (26-08-2026م)

امریکا اور ایران نے نئی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا، روسی میڈیا کا دعویٰ

26 اگست, 2026 09:34

روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران نئی جنگ بندی کے معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔ رپورٹ میں ایران اور پاکستان میں موجود ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے امریکا یا ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

روسی میڈیا کے مطابق مجوزہ جنگ بندی میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ نیوی گیشن کی بحالی بھی شامل ہوگی۔ اگر یہ پیش رفت درست ثابت ہوتی ہے تو اس کا اثر خطے کی سکیورٹی کے ساتھ عالمی توانائی کی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی اور توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد فریقین کے درمیان مذاکرات اور تکنیکی سطح کی ملاقاتیں ہونے کا امکان ہے۔ ان مذاکرات میں جنگ بندی کے عملی طریقہ کار اور دیگر معاملات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

روسی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں ماضی کے ایک مفاہمتی عمل کا بھی حوالہ دیا ہے۔ جون کے وسط میں امریکا اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت امن معاہدے کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی۔

تاہم یہ پیش رفت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کشیدگی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد خطے میں حالات ایک بار پھر خراب ہوئے اور جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششیں شروع کردی گئیں۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان نئی جنگ بندی کے لیے مختلف ثالثوں کے ذریعے رابطے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ فریقین کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جاتا رہا ہے۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی حکومت نے دیگر ممالک کو بھی خبردار کیا تھا کہ ایران کا معاشی گھیرا تنگ کرنے کی کوششوں میں تعاون نہ کرنے والے ممالک کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیا تھا۔ ایرانی حکام نے امریکی معاشی دباؤ کو جنگ کے تناظر میں دیکھا اور اسے امریکا کی جانب سے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی اقدامات پر تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا جنگ سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ واشنگٹن داخلی مسائل سے نمٹنے کے لیے موجودہ صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔

روسی میڈیا کی تازہ رپورٹ نے خطے میں ایک بار پھر جنگ بندی کی امید پیدا کردی ہے۔ اگر امریکا اور ایران واقعی کسی نئے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی، تیل کی ترسیل اور عالمی سفارتی صورتحال بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی آزادانہ آمدورفت کا معاملہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس راستے سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات منتقل ہوتی ہیں۔ یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں قیمتوں اور سپلائی پر اثر ڈال سکتی ہے۔

تاہم فی الحال اس خبر کو ایک میڈیا دعوے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے جنگ بندی کے حوالے سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے مجوزہ معاہدے کی شرائط اور اس پر عملدرآمد کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔