منگل، 25-اگست،2026
منگل 1448/03/12هـ (25-08-2026م)

بھارتی پولیس نے سی جے پی کے پرامن مظاہرین پر اے کے 47 اور پیلیٹ گنز سے فائرنگ کی، ایمنسٹی انٹرنیشنل

25 اگست, 2026 10:52

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نئی رپورٹ میں بتایا کہ بھارت میں پرامن مظاہرین پر پولیس کے وحشیانہ تشدد اور پیلیٹ گنز کے استعمال کے باوجود کسی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مظاہرین کے خلاف پولیس کے غیر قانونی اور مہلک طاقت کے استعمال پر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں دہلی میں نکالے گئے ‘چلو سنسد’ مارچ پر دہلی پولیس کے حملوں کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود کسی ایک بھی پولیس اہلکار کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ ن نئی ڈیجیٹل تحقیقات کے مطابق 20 جولائی سے 24 جولائی کے درمیان دہلی اور بہار کے ضلع سیوان میں پرامن مظاہرین پر چھلرے والی بندوقیں (پیلیٹ گنز)، آنسو گیس کے شیل، لاٹھیاں اور الیکٹرک شاک والے آلات استعمال کیے گئے۔

ثبوتوں سے تصدیق ہوئی ہے کہ پولیس اہلکاروں نے عالمی قوانین اور مقامی قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہجوم پر غیر قانونی طور پر مہلک طاقت کا استعمال کیا۔

دہلی پولیس نے ایکس پر اپنے دفاع میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کا رویہ پیشہ ورانہ تھا، لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے بورڈ چیئرمین آکار پٹیل کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے احتجاج کے حق کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ بند کیا، رکاوٹیں کھڑی کیں اور بچوں سمیت پرامن شہریوں پر تشدد کیا۔

یہ بھی پڑھیں : معرکہ حق میں پاکستان نے بھارت کے نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر کے بیانیے کو خاک میں ملا دیا، ڈاکٹر ہما بقائی

انہوں نے کہا کہ ریاست کی سرپرستی میں ہونے والا یہ تشدد ہجوم کو کنٹرول کرنے کے نام پر کیا گیا اور ایک ماہ بعد بھی پولیس اہلکاروں کو سزا نہ ملنا حکومتی ناانصافی کا ثبوت ہے۔

تحقیقات کے دوران ایمنسٹی کی ٹیم نے 17 ویڈیوز کی تصدیق کی، جن میں پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار مظاہرین پر پیلیٹ گنز چلاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایک زخمی مظاہرین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بغیر کسی انتباہ کے ان پر 300 سے 400 میٹر کے فاصلے سے پیلیٹ گنز سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ان کے جسم پر 25 سے 30 زخم آئے اور انہیں اسپتال داخل ہونا پڑا۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نے ایسے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے، جو شدید دھماکے کے ساتھ پھٹتے ہیں اور مظاہرین کو سیدھا نشانہ بنا کر مارے گئے، جبکہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے بھی شہریوں کو لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔

بہار کے علاقے سیوان میں 24 جولائی کو پولیس اہلکار کو اے کے رائفل سے مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود بھارتی حکام نے ان واقعات کی کوئی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ ان سنگین خلاف ورزیوں پر فوری غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔