امریکی اقتصادی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ موجودہ حالات میں مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنے یا امریکی دباؤ قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایران کو معاشی اور سیاسی مشکلات کا سامنا ہے، لیکن ملک ان حالات سے نکلنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کیے جانے والے معاشی دباؤ کا ایک مقصد ایرانی معاشرے میں اختلافات پیدا کرنا ہے۔ اقتصادی مشکلات کے ذریعے عوام میں بے چینی بڑھانے اور معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں قومی اتحاد پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ عوام کے درمیان تعاون اور باہمی ہمدردی سے ملک کو درپیش مشکلات کا مقابلہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے یونیورسٹی کے اساتذہ، محققین اور دیگر ماہرین پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کریں۔ تعلیم یافتہ طبقہ سماجی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
پزشکیان کا کہنا تھا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت اور عوام کے درمیان تعاون مزید ضروری ہوگیا ہے۔ ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کے لیے معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے کے قریب آنا ہوگا۔ حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے معاشی مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی معیشت سے منسلک مختلف افراد، اداروں اور شعبوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکا نے ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے دیگر ممالک اور اداروں کے خلاف بھی کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔
امریکی پابندیوں کا دائرہ ایران کی تیل کی تجارت تک محدود نہیں۔ مالیاتی نظام، شپنگ، ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبے بھی ان اقدامات کی زد میں ہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ اقتصادی پابندیوں کا مقصد ایران کی مالی اور فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب تہران امریکی مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی اقتصادی پالیسی ایرانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ پابندیوں کا مقصد ملک پر دباؤ بڑھانا اور اندرونی سطح پر بے چینی پیدا کرنا ہے۔
ایرانی حکومت کے لیے موجودہ صورتحال ایک بڑا معاشی چیلنج بھی بن چکی ہے۔ پابندیوں کے باعث تجارت، مالیاتی معاملات اور تیل کی فروخت سمیت مختلف شعبوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے داخلی اتحاد اور معاشی مزاحمت پر زور دیا جا رہا ہے۔
پزشکیان کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران فی الحال امریکی دباؤ کے باعث اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی قیادت مشکل حالات میں عوامی اتحاد کو اپنی اہم حکمت عملی قرار دے رہی ہے۔ تاہم پابندیوں میں مزید اضافے کی صورت میں ایران کی معیشت پر پڑنے والے اثرات اہم ہوں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











