ایران کے خلاف جوابی کارروائی لازمی کی جائے گی، تاہم مذاکرات کی امید اب بھی باقی ہے، ٹرمپ

امریکی صدر نے ایران پر زوردار جوابی حملے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں معاشی پابندیاں سخت اثر انداز ہو رہی ہیں، مذاکرات کی امید اب بھی باقی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحانہ مؤقف اپنائے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اردن میں امریکی فوج کے بیس پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملے کا لازمی اور زوردار جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور بیشتر ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک مخصوص میزائل کو ڈیفنس سسٹم سے گزرنے دیا گیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر عائد کی جانے والی معاشی پابندیاں تہران کی معیشت پر انتہائی سخت اثرات مرتب کر رہی ہیں اور وہاں افراط زر کی شرح 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے 6 ماہ: امریکی تیل کمپنیوں کا ریکارڈ منافع مگر خلیج میں اربوں ڈالر کے اثاثے خطرے میں پڑگئے
امریکی صدر کے مطابق ایران کی قیادت شدید انتشار کا شکار ہے اور وہ ملک کی مناسب نمائندگی کرنے کے قابل نہیں رہی۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران کی انتظامیہ امریکی حکام سے ملاقات کے لیے انتہائی بے تاب ہے، تاہم وہ خود اس بات پر غیر یقینی کا شکار ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب، امریکی صدر نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پرتشدد کارروائیوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایرانی قیادت پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلنا چاہیے۔
تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو رد کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 117 بتائی ہے اور بدامنی کا ذمہ دار اسرائیل کے پشت پناہ شرپسندوں کو قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وینزویلا کے اوپیک سے الگ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ اسے خود کرنا ہے جبکہ وہ خود امریکہ کے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر کو بھرنا چاہتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









