امریکہ سے 100 سالہ تیل معاہدے پر وینزویلا میں شدید تنقید، عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دے دیا

امریکہ اور وینزویلا کی عبوری حکومت کے درمیان سو سالہ تاریخی آئل ڈیل پر دستخط ہونے کے بعد وینزویلا کی عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے، جسے انہوں نے نئے امریکی نوآبادیاتی نظام کا آغاز قرار دیا۔
امریکہ اور وینزویلا کے درمیان ایک بڑا تیل کا معاہدہ طے پا گیا، جس کی منظوری کاراکاس میں دی گئی۔ اس معاہدے کے تحت امریکی قیادت میں کام کرنے والی ایک نجی کمپنی کو وینزویلا کے 17 مختلف آئل فیلڈز پر 100 سال کے لیے حقوق دے دیے گئے ہیں۔
ان آئل فیلڈز میں مجموعی طور پر 65 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو کہ وینزویلا کے معلوم شدہ کل قومی تیل کے ذخائر کے 20 فیصد سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ڈیل کو عالمی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ قرار دیا ہے، جبکہ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے ملک میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی اور 200 ارب ڈالر کا ٹیکس ریونیو حاصل ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا امریکی توانائی بحران کا حل اور وینزویلا کے 55 فیصد تیل پر کنٹرول
تاہم اس معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد دونوں ممالک کے اندر شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے سابق خاص نمائندے ایلیٹ ابرامز نے اس معاہدے کو انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کی عبوری صدر نے واشنگٹن کے دباؤ میں آ کر قومی اثاثے مفت میں دے دیئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی دستاویزات کے مطابق جس نجی کمپنی ‘نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز’ کو یہ حقوق دیئے گئے ہیں، اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اکثریت امریکی شہریوں کی ہوگی اور واشنگٹن کے پاس کمپنی کے کسی بھی ڈائریکٹر کی تعنیاتی پر ویٹو پاور موجود ہوگی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے مشرق وسطیٰ کی ناکہ بندیوں اور جنگوں کے مقابلے میں امریکہ کے اپنے ہی خطے میں توانائی کی سپلائی بحال ہو جائے گی۔
وینزویلا کی اپوزیشن اور جمہوری رہنماؤں نے اس معاہدے کو اپنے عوام کے ساتھ بڑا دھوکا قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا میں جمہوریت بحال کرنے کے بجائے ایک غیر آئینی حکومت کے ساتھ مل کر ملک کے اثاثوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
دوسری طرف وینزویلا کے سائنسی اور سوشلسٹ حلقے بھی عبوری صدر سے شدید ناراض ہیں، کیونکہ سابق صدر ہوگو چاویز کے دور میں امریکی کمپنیوں کے اثاثے بحق سرکار ضبط کیے گئے تھے اور اب ان کی پیروکار نے یہی اثاثے واپس امریکیوں کے حوالے کر دیئے ہیں، جنہیں وینزویلا میں نئے امریکی نوآبادیاتی نظام کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










