پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی

پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی امیونو تھراپی دوا امفِنزی کے ساتھ ٹرلاٹامب کے استعمال سے مریضوں کی بقا کے نتائج میں بہتری کے اشارے ملے ہیں۔ امفِنزی کا طبی نام ڈروالوماب ہے، جبکہ ٹرلاٹامب کو امڈیلٹرا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امفِنزی روایتی کیموتھراپی سے مختلف طریقے سے کام کرتی ہے۔ یہ دوا کینسر کے خلیات کو براہ راست ختم کرنے کے بجائے جسم کے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے امیونو تھراپی کے اہم علاج میں شمار کیا جاتا ہے۔
آسٹرا زینیکا کے مطابق امفِنزی کو امریکی کمپنی ایمجن کی ٹارگٹڈ امیونوتھراپی دوا ٹرلاٹامب کے ساتھ استعمال کرنے کے نتائج حوصلہ افزا رہے۔ یہ نتائج ڈیلفی 305 نامی آخری مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں سامنے آئے۔
تحقیق میں ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جنہیں چھوٹے خلیوں والے پھیپھڑوں کے کینسر، یعنی ایس سی ایل سی، کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان مریضوں کو ابتدائی مرحلے میں امفِنزی کے ساتھ پلاٹینم پر مبنی کیموتھراپی اور ایٹوپو سائیڈ پر مشتمل علاج دیا گیا۔
ابتدائی علاج کے بعد امفِنزی اور ٹرلاٹامب کو مستقل علاج کے طور پر جاری رکھا گیا۔ اس امتزاج سے مریضوں کی مجموعی صورتحال اور بقا میں نمایاں بہتری کے شواہد سامنے آئے۔
آسٹرا زینیکا کی آنکولوجی اور ہیماٹولوجی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ایگزیکٹو نائب صدر سوزن گالبریتھ نے کہا کہ نتائج سے امفِنزی پر مبنی ابتدائی علاج کے بعد دونوں ادویات کے امتزاج کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ یہ طریقہ انتہائی خطرناک قسم کے پھیپھڑوں کے کینسر میں مجموعی بقا کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نتائج چھوٹے خلیوں والے پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں امفِنزی کے کردار کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ تاہم کسی بھی نئی دوا یا علاج کے استعمال کا فیصلہ مریض کی بیماری، صحت اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کیا جاتا ہے۔
پھیپھڑوں کا کینسر کتنا خطرناک ہے؟
پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ اس بیماری کی ایک خطرناک قسم چھوٹے خلیوں والا پھیپھڑوں کا کینسر ہے، جسے ایس سی ایل سی کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری تیزی سے پھیل سکتی ہے اور اس کا علاج ایک بڑا طبی چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق محدود درجے کے ایس سی ایل سی میں تقریباً 18.1 فیصد مریض تشخیص کے پانچ سال بعد تک زندہ رہتے ہیں۔ وسیع درجے کے ایس سی ایل سی میں یہ شرح تقریباً 3.6 فیصد رہ جاتی ہے۔
حالیہ برسوں میں امیونو تھراپی سمیت جدید علاج سے پھیپھڑوں کے کینسر کے کچھ مریضوں کیلئے نتائج بہتر ہوئے ہیں۔ تاہم بیماری کی نوعیت اور مریض کی حالت کے مطابق علاج کے نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔ نئی تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج بھی اس بیماری کے علاج کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












