دماغی صحت متاثر کرنے والی 5 روزمرہ عادات، جانیں کیسے بچا جا سکتا ہے

How and Why Do Brain Vessels Rupture? Early Signs of Brain Hemorrhage Revealed in New Research
ہماری روزمرہ زندگی کی کئی ایسی عادات ہیں جو بظاہر معمولی اور بے ضرر محسوس ہوتی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ نیند، توجہ، یادداشت اور مجموعی ذہنی کارکردگی پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق دماغ ایک متحرک عضو ہے جو انسان کے تجربات، ماحول اور روزمرہ معمولات کے مطابق خود کو ڈھالتا رہتا ہے۔ اس صلاحیت کو نیوروپلاسٹیسٹی کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزمرہ زندگی میں چند مثبت تبدیلیاں لاکر دماغی صحت اور ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔
صبح بیدار ہونے کے بعد قدرتی روشنی سے دور رہنا بھی ایسی عادت ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صبح کی قدرتی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی، یعنی سرکیڈین ردم، کو منظم رکھنے میں مدد دیتی ہے اور دن کے آغاز کا قدرتی سگنل فراہم کرتی ہے۔ اس کے برعکس بیدار ہونے کے بعد طویل وقت تک اندھیرے یا صرف مصنوعی روشنی میں رہنا نیند اور بیداری کے معمول کو متاثر کرسکتا ہے۔
اس عادت کو بہتر بنانے کے لیے صبح اٹھنے کے بعد کچھ وقت باہر قدرتی روشنی میں گزاریں یا ہلکی چہل قدمی کریں۔ بادل چھائے ہونے کے باوجود بیرونی قدرتی روشنی عموماً گھر کے اندر کی روشنی سے زیادہ روشن ہوتی ہے۔
موبائل فون پر مسلسل اسکرولنگ بھی ذہنی توجہ کو متاثر کرسکتی ہے۔ سوشل میڈیا، ویڈیوز اور مختلف ایپس کو بار بار تبدیل کرنے سے دماغ کو مسلسل نئے محرکات ملتے رہتے ہیں، جبکہ بار بار توجہ منتقل کرنے کی عادت کسی ایک کام پر دیر تک توجہ مرکوز رکھنے کو مشکل بنا سکتی ہے اور ذہنی تھکن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس کے لیے فون ہر چند منٹ بعد چیک کرنے کے بجائے اس کے استعمال کے مخصوص اوقات مقرر کیے جاسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے لیے دن میں چند مختصر وقفے مختص کرنے سے غیر ضروری اسکرولنگ کم کرنے اور دیگر کاموں پر توجہ برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
رات دیر سے یا سونے کے بالکل قریب کھانا کھانے کی عادت بھی نیند کے معیار کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس وقت نظامِ ہاضمہ سرگرم رہتا ہے اور بعض افراد کو بے آرامی یا نیند میں خلل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ چونکہ مناسب نیند یادداشت اور ذہنی کارکردگی کے لیے اہم ہے، اس لیے رات گئے کھانے کی عادت بالواسطہ طور پر اگلے دن کی توانائی اور توجہ کو متاثر کرسکتی ہے۔
بہتر ہے کہ رات کے کھانے اور سونے کے درمیان مناسب وقفہ رکھا جائے۔ سونے سے پہلے کیفین والے مشروبات سے گریز بھی بعض افراد کے لیے نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
مسلسل ذہنی دباؤ کو نظر انداز کرنا بھی دماغی صحت کے لیے مناسب نہیں۔ طویل عرصے تک رہنے والا تناؤ نیند، توجہ اور مجموعی ذہنی کارکردگی کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس لیے صرف دباؤ کو برداشت کرتے رہنے کے بجائے اس کی وجوہات کو سمجھنا اور ان سے نمٹنے کے مناسب طریقے تلاش کرنا زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔
اگر کسی شخص کو مسلسل پریشانی، غصے، بے چینی یا ذہنی دباؤ کا سامنا ہو تو اسے اپنے جذبات اور ان کی ممکنہ وجوہات پر غور کرنا چاہیے۔ اگر تناؤ طویل عرصے تک برقرار رہے یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو ماہرِ صحت یا ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
طویل وقت تک مسلسل بیٹھے رہنا بھی ایک ایسی عادت ہے جس میں تبدیلی لانا مفید ہوسکتا ہے۔ گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھنے سے جسمانی تھکن کے ساتھ بعض افراد کو توجہ میں کمی اور ذہنی دھند جیسی کیفیت بھی محسوس ہوسکتی ہے۔
کام یا مطالعے کے دوران وقفے وقفے سے نشست سے اٹھ کر چند منٹ چہل قدمی، اسٹریچنگ یا ہلکی جسمانی سرگرمی کی جاسکتی ہے۔ مختصر وقفے جسم کو حرکت دینے کے ساتھ ذہنی تازگی میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔
دماغی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے ہمیشہ بڑی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صبح قدرتی روشنی میں وقت گزارنا، موبائل فون کا غیر ضروری استعمال کم کرنا، رات دیر سے کھانے سے گریز، ذہنی دباؤ کی وجوہات کو سمجھنا اور کام کے دوران وقفے لینا ایسے چھوٹے اقدامات ہیں جنہیں روزمرہ معمول کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
تاہم صحت مند دماغ اور بہتر ذہنی کارکردگی کے لیے مناسب نیند، متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی بھی اہم ہیں۔ اگر ذہنی دباؤ، نیند کے مسائل یا توجہ اور یادداشت سے متعلق مشکلات مسلسل برقرار رہیں تو خود سے تشخیص کرنے کے بجائے ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا زیادہ مناسب ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












