جمعرات، 10-ستمبر،2026
جمعرات 1448/03/28هـ (10-09-2026م)

میر رضا کیس: کرائم سین سے پوسٹ مارٹم تک سنگین فارنزک خامیوں کی نشاندہی

10 ستمبر, 2026 14:13

کراچی: میر رضا کیس کی تحقیقات میں کرائم سین سے لے کر پوسٹ مارٹم تک متعدد اہم فارنزک خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق بعض اہم شواہد محفوظ نہ کیے جانے کے باعث تحقیقات میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

فارنزک ماہرین کے مطابق میر رضا کی لاش جائے وقوعہ سے اٹھاتے وقت کرائم سین کو مناسب طریقے سے کارڈن آف نہیں کیا گیا اور لاش منتقل کرنے والے شخص نے دستانے بھی نہیں پہن رکھے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاش ملنے کی جگہ کے گرد زیادہ وسیع علاقے کو محفوظ بنایا جانا چاہیے تھا تاکہ ممکنہ شواہد کے حصول کے امکانات بڑھتے۔

ماہرین کے مطابق کرائم سین یونٹ کی ذمہ داری صرف جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا نہیں بلکہ پورے مقام کو محفوظ، دستاویزی اور قابلِ عدالتی ثبوت کی شکل میں برقرار رکھنا بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے لاش کو منتقل کرنے سے قبل جائے وقوعہ کی مکمل تصاویر اور ویڈیو بنانا، گولی کے زخموں اور کپڑوں کی حالت محفوظ کرنا، خول اور گولیوں کی تلاش، بلٹ ہولز اور گولی کی سمت سے متعلق شواہد، خون کے نشانات اور جسم پر موجود دیگر ممکنہ شواہد کو محفوظ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

سینئر فارنزک ماہرین کے مطابق میر رضا کے دائیں ہاتھ پر جی ایس آر کے شواہد موجود تھے، جبکہ سینے پر نیل اور دائیں ہتھیلی پر رگڑ کے نشانات بھی پائے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دائیں ہاتھ پر کسی رسی یا دوسری چیز کے ممکنہ نشانات کا بھی مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق حتمی رائے کے لیے ہاتھ کے دونوں اطراف کا معائنہ ضروری تھا تاکہ نشانات کے تسلسل اور کسی مخصوص پیٹرن کا جائزہ لیا جاسکے۔

لیبارٹری رپورٹ کے مطابق میر رضا کے خون میں بیوپیواکین نامی مقامی بے ہوش کرنے والی دوا کے اجزا پائے گئے۔

فارنزک ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ گولی کی سمت اور جسم میں اس کے راستے کا تعین کرنے کے لیے لاش کا ایکسرے نہیں کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر گولی نے کھوپڑی، پسلی، ریڑھ کی ہڈی، بازو یا ٹانگ کی ہڈی کو متاثر کیا ہو تو ہڈیوں کو پہنچنے والا نقصان گولی کی سمت اور راستے کی تشکیلِ نو میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، جبکہ بعض حالات میں ایکسرے یا سی ٹی اسکین بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے دوران ناخنوں کے نمونے نہ لیے جانے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق اگر کیس میں ہاتھا پائی، مزاحمت یا جسمانی تصادم کا امکان موجود ہو تو ناخنوں کے نیچے موجود ٹریس میٹریل ممکنہ طور پر اہم ثبوت فراہم کرسکتا ہے، جس میں دوسرے شخص کا ڈی این اے، خون، بال، کپڑوں کے ریشے یا دیگر ذرات شامل ہوسکتے ہیں۔

فارنزک ماہرین کے مطابق ایسے ممکنہ شواہد کو پہلے پوسٹ مارٹم کے دوران محفوظ کرنا زیادہ مؤثر ہوتا، کیونکہ اس مرحلے پر ٹریس ایویڈینس نسبتاً بہتر حالت میں ہوسکتا ہے۔ تاہم قبر کشائی کے بعد بھی ناخنوں سے ڈی این اے یا دیگر ٹریس مٹیریل ملنے کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، البتہ ڈی کمپوزیشن، ماحولیاتی اثرات، ہینڈلنگ اور آلودگی کے باعث شواہد کی ثبوتی اہمیت متاثر ہوسکتی ہے۔

ماہرین نے واضح کیا کہ ناخنوں کے نمونے بنیادی طور پر ڈی این اے اور ٹریس ایویڈینس کے لیے لیے جاتے ہیں اور انہیں جی ایس آر کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم میں ناخنوں کے نمونے نہیں لیے گئے تو اسے خود بخود کسی بدنیتی کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم اگر کیس کے حالات میں مزاحمت یا جسمانی تصادم کا معقول امکان موجود تھا تو ممکنہ فارنزک شواہد جمع کرنے کا ایک اہم موقع ضائع ہونے کا امکان موجود ہے۔

فارنزک ماہرین نے پولیس کے کرائم سین یونٹ میں سائنسی تعلیم اور خصوصی تربیت رکھنے والے اہلکاروں کی تعیناتی پر بھی زور دیا ہے۔ ان کے مطابق تربیت یافتہ اہلکار ہی فارنزک ایس او پیز کے مطابق جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے اور لاش سے متعلق شواہد کو درست طریقے سے ہینڈل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس جرائم کے واقعات میں کرائم سین پر ڈاکٹر اور فارنزک ماہر کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے، جبکہ تھانے کے اہلکاروں اور ریسکیو رضاکاروں کو بھی جائے وقوعہ محفوظ رکھنے اور ممکنہ شواہد کو آلودہ ہونے سے بچانے کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔