جمعرات، 10-ستمبر،2026
جمعرات 1448/03/28هـ (10-09-2026م)

میر رضا کیس: ضیا لنجار کی جوڈیشل کمیشن کے سامنے معافی؛ ڈاکٹر اُسامہ کے جواب پرعدم اطمینان

10 ستمبر, 2026 13:50

کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی سماعت ہوئی، جس میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ میر رضا کے اہل خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر بھی سماعت میں شریک ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ انہوں نے اہل خانہ اور دیگر متعلقہ افراد کے سامنے واضح کیا تھا کہ وہ حکومت کے کسی فرد سے ملاقات نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو شفاف انداز میں چلانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور فیملی کا اعتماد برقرار رکھنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

کمیشن کے سربراہ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ جسٹس عمر سیال کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل کا رویہ تضحیک آمیز تھا اور انہوں نے معاملے کو سلجھانے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ کرنے کا کام کیا۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کمیشن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی ادارہ اپنا کام نہیں کرتا تو عدالت ہی کا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ انہوں نے جسٹس عمر سیال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سینئر جج ہیں اور حکومت کو ان پر اعتماد ہے۔

ضیاء لنجار نے کہا کہ کیس کی تحقیقات جس سمت بھی جائیں، حکومت ملزمان تک پہنچنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کمیشن کی کارروائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتی اور کمیشن جو بھی کارروائی کرے گا، حکومت اس کے ساتھ ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ میر رضا کے اہل خانہ نے جے آئی ٹی کے قیام کے لیے عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی، تاہم وہ مسترد ہوگئی تھی۔

دوسری جانب سماعت کے دوران میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے کمیشن کے شوکاز نوٹس کا جواب بھی جمع کرا دیا گیا۔

کمیشن نے صحافی کا موبائل فون چھیننے کے واقعے پر ڈاکٹر اسامہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جس کے جواب میں ڈاکٹر اسامہ نے اپنا مؤقف کمیشن کے سامنے جمع کرا دیا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔