پنجاب کے سرکاری اسکولوں کی خراب کارکردگی پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے انکوائری شروع کردی

پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے لیے محکمہ تعلیم نے کم کارکردگی دکھانے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے ایسے اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں نویں جماعت کے نتائج 20 فیصد یا اس سے بھی کم رہے۔
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کے مطابق صوبے میں تقریباً 2200 سرکاری اسکول ایسے ہیں جن کے نتائج 20 فیصد یا اس سے کم رہے۔ ان اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران نے بھی کم نتائج دینے والے اسکولوں کے خلاف انکوائری کا آغاز کردیا ہے۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ جن اسکولوں میں نویں جماعت کے نتائج 20 فیصد سے کم رہے، وہاں کے پرنسپلز اور اسکول سربراہان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ انہیں تین روز کے اندر اپنی کارکردگی کے بارے میں جواب جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رانا سکندر حیات کے مطابق صرف وضاحت طلب کرنا ہی مقصد نہیں۔ متعلقہ اسکول سربراہان کو تعلیمی معیار بہتر بنانے اور طلبہ کے نتائج میں واضح بہتری لانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم خراب نتائج کی وجوہات کا جائزہ لے گا اور ذمہ داری کا تعین بھی کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ 20 فیصد سے کم نتائج دینے والے اساتذہ کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ ایسے اساتذہ کو ملازمت سے ہٹانے تک کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ کمزور کارکردگی کے معاملے میں طویل انکوائریوں کا سلسلہ نہیں چلایا جائے گا۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ اگر کوئی استاد مسلسل تین سے پانچ سال تک خراب نتائج دیتا رہا ہے تو اسے اسی عہدے پر برقرار رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانا محکمہ تعلیم کی بنیادی ترجیح ہے اور اس حوالے سے براہ راست کارروائی کی جائے گی۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ بہتر کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انہیں انعامات بھی دیے جائیں گے۔ اس کا مقصد اچھا کام کرنے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ اسکولوں میں تعلیمی معیار بہتر بنانا ہے۔
Catch all the تعلیم News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









