پہلگام فالس فلیگ کے پس پردہ مذموم سیاسی مقاصد اور مودی کے مفادات آشکار

پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف بھارت کے بیانیے اور مودی حکومت کے سیاسی مفادات پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بھارتی صحافی اجے شکلا نے واقعے کے پس پردہ مودی حکومت کے مبینہ سیاسی مقاصد اور حکمت عملی سے متعلق اہم نکات سامنے رکھے ہیں۔
اجے شکلا کے مطابق متعدد بھارتی رہنما اور ناقدین پہلے بھی پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارتی حکومت کے کردار پر سوالات اٹھا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے بعض سیاسی اور معاشی مفادات کے حصول کے لیے اس واقعے کو اپنے بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔
بھارتی صحافی نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے سے منسلک ہوٹل کی تعمیر اور زمینوں سے متعلق مفادات کے لیے اس معاملے کو استعمال کیا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
اجے شکلا نے بھارتی سیاستدان شنکر سنگھ واگیلا کے بیانات کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے گجرات میں ہونے والے قتل عام کے پس منظر میں مودی حکومت کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔
ان کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے بھی پہلگام واقعے کو ایک منظم سازش اور ڈرامہ قرار دینے کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ بھارت کے اندر موجود ناقدین بھی حکومت کے بیانیے کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
بھارتی سیکیورٹی امور کے ماہر ڈاکٹر اجے ساہنی نے بھی پہلگام واقعے کو ایک سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیا تھا۔ اسی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیا پال ملک نے مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم سے قوم سے معافی مانگنے اور عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارتی سابق رکن اسمبلی وجے تیواری کی جانب سے بھی پہلگام حملے کی ذمہ داری بھارتی حکومت پر عائد کرنے کا بیان سامنے آ چکا ہے۔
بھارتی گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور نے بھی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ دہشتگرد حملے بی جے پی حکومت کے دور میں ہی کیوں پیش آتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ پہلگام واقعے کے فوراً بعد پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کردی گئی۔
پہلگام واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والے ان بیانات نے بھارت میں حکومت کے طرزِ عمل، سیکیورٹی پالیسی اور پاکستان مخالف بیانیے پر بحث کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ داخلی سیاسی اور حکومتی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے قومی سلامتی سے متعلق واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










