ہفتہ، 12-ستمبر،2026
ہفتہ 1448/04/01هـ (12-09-2026م)

معدے کی تیزابیت!!! رات کھانا کھانے کے بعد یہ غلطی ہر گز نہ کریں؛ ورنہ۔۔۔۔۔

12 ستمبر, 2026 12:53

معدے کی تیزابیت ایک عام مسئلہ ہے۔ بہت سے افراد کو وقتاً فوقتاً سینے میں جلن، کھٹی ڈکاروں اور پیٹ میں بے آرامی کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب معدے کا تیزاب واپس غذائی نالی کی طرف آنے لگے۔

ماہرین کے مطابق صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ ہم کیا کھا رہے ہیں۔ کھانا کس انداز میں کھایا جارہا ہے، یہ بھی اہم ہے۔ ایک وقت میں بہت زیادہ کھانا، جلدی جلدی کھانا یا کھانے کے فوراً بعد لیٹ جانا بعض افراد میں تیزابیت کی علامات بڑھا سکتا ہے۔

عام طور پر مرچ مصالحے اور زیادہ چکنائی والی غذائیں کچھ لوگوں میں مسئلہ پیدا کرسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کافی، چاکلیٹ، ٹماٹر اور ترش پھل بھی بعض افراد میں سینے کی جلن یا کھٹی ڈکاروں کی شکایت بڑھا سکتے ہیں۔ تاہم ہر شخص میں صورتحال ایک جیسی نہیں ہوتی۔

اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی خوراک اور تیزابیت کی علامات کے درمیان تعلق پر توجہ دی جائے۔ اگر کسی خاص غذا کے استعمال کے بعد بار بار جلن یا کھٹی ڈکاریں محسوس ہوں تو اس غذا کو کم کرنا یا کچھ عرصے کے لیے چھوڑ دینا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

تیزابیت سے بچنے کے لیے کیا کریں؟

ماہرین کے مطابق ایک وقت میں بہت زیادہ کھانے کے بجائے تھوڑی مقدار میں غذا لینا بہتر ہے۔ کھانا آہستہ آہستہ اور اچھی طرح چبا کر کھانا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ رات کے کھانے کے فوراً بعد بستر پر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

خاص طور پر رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم تین گھنٹے کا وقفہ رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس سے بعض افراد میں کھانے کے بعد تیزاب کے غذائی نالی کی طرف واپس آنے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔

ہلکی غذا کے طور پر اوٹس اور کیلے سے تیار ایک سادہ باؤل بھی بعض افراد کے لیے مناسب انتخاب ہوسکتا ہے۔ اسے گھر میں آسانی سے تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے آدھا کپ پکے ہوئے اوٹس، ایک چھوٹا کیلا، آدھا کپ دہی اور ایک چھوٹا چمچ چیا سیڈز درکار ہوں گے۔

اسے تیار کرنے کے لیے پکے ہوئے اوٹس میں کیلا، دہی اور چیا سیڈز شامل کرکے اچھی طرح مکس کرلیں۔ اسے کم مقدار میں اور آہستہ آہستہ کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ غذا ہر شخص کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوسکتی۔

اوٹس میں فائبر موجود ہوتا ہے جبکہ کیلا نسبتاً کم ترش پھل ہے۔ بعض افراد اسے آسانی سے برداشت کرلیتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگوں کو مخصوص غذاؤں سے تیزابیت بڑھنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔ اس لیے کسی بھی غذا کو اپنی علامات کے مطابق استعمال کرنا بہتر ہے۔

کبھی کبھار ہونے والی ہلکی تیزابیت عام ہوسکتی ہے، لیکن اگر سینے کی جلن یا کھٹی ڈکاریں بار بار ہونے لگیں تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مسلسل تیزابیت بعض اوقات گیسٹرو ایسوفیجیل ریفلکس ڈیزیز یعنی جی ای آر ڈی سے بھی منسلک ہوسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف غذا میں تبدیلی کرنا کافی نہیں۔ اگر علامات مسلسل رہیں، شدید ہوجائیں یا معمول کی احتیاط کے باوجود بہتری نہ آئے تو ڈاکٹر یا ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ اس طرح تیزابیت کی اصل وجہ معلوم کرکے مناسب علاج کیا جاسکتا ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔