پیر، 21-ستمبر،2026
پیر 1448/04/10هـ (21-09-2026م)

مصنوعی ذہانت خطرہ بن چکی ہے، لیبارٹریوں کو ہیک کر کے جان لیوا وائرس تیار کر سکتی ہے، سابق محقق

13 ستمبر, 2026 11:27

مصنوعی ذہانت کے ادارے اینتھراپک سے استعفا دینے والے محقق کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی انتہائی تیز رفتار ترقی نے اس شعبے میں کام کرنے والے افراد کو انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے خوفزدہ کر دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھراپک سے استعفا دینے والے محقق جیکب کوکسن نے بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے لوگ اس کی اندھا دھند ترقی سے حقیقی معنوں میں خوفزدہ ہیں اور انہیں انسانیت کے انجام کی فکر لاحق ہے۔

جیکب کوکسن نے حال ہی میں اپنے وائرل ہونے والے استعفے کی پوسٹ میں غیر قابو شدہ مصنوعی ذہانت کے خطرات پر آواز اٹھائی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے ترقی کی موجودہ رفتار کو سست نہ کیا تو اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ہم سب قریب ترین مستقبل میں ہلاک ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : چین اگر مصنوعی ذہانت میں آگے نکل گیا تو آئرن ڈوم کی اہمیت ختم ہو جائے گی، امریکی وزیر خارجہ

ان کا یہ استعفیٰ اس صنعت میں سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے، جن کی تائید ان کے سابق باس اور اینتھراپک کے سربراہ ڈاریو امودی نے بھی اپنے ایک مضمون میں کی ہے۔

تاہم اس کے برعکس بعض انڈسٹری کے نامور شخصیات کا کہنا ہے کہ خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اسٹاک مارکیٹ میں آنے سے پہلے کمپنیوں کے لیے ہائپ یا سنسنی پیدا کی جا سکے یا پھر ایسی ضابطہ بندیوں کا نفاذ کرایا جا سکے، جو ان کے حریفوں کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔

28 سالہ برطانوی محقق جیکب کوکسن کا کہنا ہے کہ ایلن مسک اور اوپن اے آئی کے سام آلٹمین سمیت کئی بڑے رہنما اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے خطرات موجود ہیں اور اس طرح کے قبضے کا مطلب بالآخر انسانی نسل کا خاتمہ ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس خود بخود طبی لیبارٹریوں کو ہیک کر کے خطرناک وائرس تیار کر سکتے ہیں یا دنیا کو چلانے والے اہم ترین بنیادی ڈھانچے کو اپنے کنٹرول میں لے سکتے ہیں۔

اس کے برعکس این ویڈیا کے باس جینسن ہوانگ نے ان تمام خدشات کو مکمل طور پر بے بنیاد اور بکواس قرار دیا ہے، جبکہ دوسری طرف ٹیک کمپنیوں کے درمیان اس نئی ریس نے دنیا بھر میں ایک سنسنی خیز بحث چھیڑ دی ہے۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔