اتوار، 20-ستمبر،2026
اتوار 1448/04/09هـ (20-09-2026م)

پاسپورٹ فیس جمع کروانے کا نیا طریقہ جانیے

14 ستمبر, 2026 12:58

ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کردی ہیں۔ اب پاسپورٹ فیس صرف مقررہ راست QR کوڈ کے ذریعے جمع کروائی جائے گی۔

محکمے کے مطابق شہری پاسپورٹ فیس جمع کروانے کے لیے IBFT کے ذریعے IBAN استعمال نہیں کرسکیں گے۔ اسی طرح Passport Fee Asaan کے ذریعے PSID سے کی جانے والی ادائیگی بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

امیگریشن اینڈ پاسپورٹس حکام نے پاسپورٹ بنوانے والے تمام شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیس جمع کرواتے وقت صرف مقررہ راست QR کوڈ استعمال کریں۔ اس طریقے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں فیس کی ادائیگی قبول نہ ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ پاسپورٹ فیس جمع کروانے سے پہلے ادائیگی کا درست طریقہ ضرور چیک کریں۔ خاص طور پر IBAN یا PSID کے ذریعے فیس جمع کروانے سے گریز کیا جائے، کیونکہ ایسی ادائیگیاں اب قبول نہیں کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور کیش لیس بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس نظام کا مقصد شہریوں کو لمبی قطاروں اور غیر ضروری انتظار سے بچانا ہے۔

اگست 2026 میں ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا نے پاسپورٹ فیس کے کیش لیس نظام کو مزید آسان بنانے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے پاسپورٹ ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کا جائزہ بھی لیا۔

محمد علی رندھاوا نے خود QR کوڈ کے ذریعے پاسپورٹ فیس ادا کرکے نظام کی جانچ کی۔ انہوں نے جدید ڈیجیٹل اور کیش لیس ادائیگی کے طریقہ کار کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ڈائریکٹر جنرل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شہریوں کے لیے فیس ادائیگی کا عمل مزید آسان، تیز اور صارف دوست بنایا جائے۔ جدید نظام کے ذریعے شہریوں کو پاسپورٹ فیس جمع کروانے میں کم وقت لگنا چاہیے۔

نئے طریقہ کار کے تحت پاسپورٹ بنوانے والے شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فیس کی ادائیگی کے لیے مقررہ راست QR کوڈ ہی استعمال کریں۔ اس سے ادائیگی کے عمل میں شفافیت اور سہولت پیدا ہونے کی توقع ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔