پیٹرول سبسڈی اسکیم میں اہم تبدیلیاں، موٹر سائیکل سواروں کے لیے نئی سہولت

غزہ میں جنگ کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے کوششیں ضروری ہیں، اسحاق ڈار
اسلام آباد: وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم کے تحت جاری فیول سبسڈی پروگرام میں عوامی ردعمل کی روشنی میں اہم تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔ ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کے اجلاس میں اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ملک بھر میں اسکیم کے آغاز کے پہلے 48 گھنٹوں کے دوران شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی آرا اور مشکلات کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم نے موٹر سائیکلوں، تھری ویلرز اور رکشوں کے لیے بعض شرائط میں نرمی کی منظوری دی ہے۔
نئی تبدیلی کے تحت فیول سبسڈی حاصل کرنے کے لیے ایک مرتبہ میں کم از کم پانچ لیٹر پیٹرول خریدنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ اب اہل افراد کو ہر ہفتے 500 روپے کا ٹوکن دیا جائے گا، جسے کسی بھی مقدار میں پیٹرول خریدنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ اس تبدیلی کا مقصد کم مقدار میں پیٹرول خریدنے والے شہریوں کو بھی سبسڈی سے فائدہ پہنچانا ہے۔
اس کے علاوہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے اہلیت کی عمر بھی بڑھا دی گئی ہے۔ پہلے اس اسکیم کے لیے عمر کی حد 15 سال تھی، جسے اب بڑھا کر 20 سال کردیا گیا ہے۔
800 سی سی تک کی چار پہیوں والی گاڑیوں کے لیے موجودہ طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ان گاڑیوں کے اہل صارفین کو ہر 10 دن بعد 10 لیٹر کا ایک ٹوکن ملے گا، جس کے تحت ایک ماہ میں مجموعی طور پر تین ٹوکن جاری ہوں گے۔
حکام کے مطابق 500 روپے کے ٹوکن کی مکمل مالیت صارف کو فراہم کی جائے گی اور پیٹرول پمپس اس رقم میں سے کسی قسم کی کٹوتی یا سروس چارج وصول نہیں کرسکیں گے۔
اجلاس میں اسکیم کے لیے رجسٹریشن، ٹوکن کے استعمال اور پیٹرول پمپس کو ادائیگیوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی کہ ادائیگیوں کی صورتحال سے متعلق رپورٹ روزانہ دو مرتبہ، صبح 11 بجے اور شام 7 بجے فراہم کی جائے۔
ہدایت کی گئی کہ اگر کوئی ٹرانزیکشن مسترد ہوتی ہے تو اس کی مخصوص وجہ کی نشاندہی کی جائے اور مسئلے کو بلا تاخیر حل کیا جائے تاکہ اہل شہریوں کو سبسڈی کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس میں ان علاقوں کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی بھی ہدایت کی گئی جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا دستیاب نہیں۔ ان علاقوں میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر دور دراز دیہی علاقے شامل ہیں۔
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ اسکیم کا مقصد کمزور اور مستحق شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اس لیے کسی اہل فرد کو محض جغرافیائی محل وقوع یا انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اس سہولت سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔
اجلاس میں وفاقی و صوبائی وزرا، اسٹیٹ بینک، اوگرا، وزارت پٹرولیم اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام کے علاوہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے نمائندوں نے شرکت کی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











