مسئلہ کشمیر کو غیر حل شدہ چھوڑنا خطرناک، مئی 2025 کا پاک بھارت تنازع واضح یاد دہانی ہے: اسحاق ڈار

نیویارک: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مئی 2025 کا پاک بھارت تنازع اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کو غیر حل شدہ چھوڑنا خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں۔
نائب وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم تہذیبی اور مذہبی شناخت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ علاقے میں صحافیوں کی آواز دبائی جا رہی ہے اور عالمی مبصرین کو آزادانہ رسائی حاصل نہیں۔
اسحاق ڈار نے مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے تحقیقات مکمل کیے بغیر پاکستان پر الزامات عائد کیے تھے۔ ان کے مطابق پاکستان نے اپنے دفاع میں ذمہ دارانہ اور متوازن ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کا تنازع ایک مرتبہ پھر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا دیرپا اور پرامن حل نہ ہونا جنوبی ایشیا میں کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
وزیر خارجہ نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق کشمیری سیاسی رہنماؤں اور نوجوانوں کو سخت قوانین کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے او آئی سی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ جموں و کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









