کیا آپ اس دلچسپ پہیلی کا جواب دے سکتے ہیں؟

پہیلیاں حل کرنا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ دماغی مشق بھی فراہم کرتی ہیں۔ مختلف معمے حل کرنے سے انسان کو غور کرنے اور کسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی عادت پڑتی ہے۔ اسی لیے ایسی تصویری پہیلیاں سوشل میڈیا پر بھی کافی پسند کی جاتی ہیں۔
اوپر موجود تصویر بھی ایک دلچسپ آئی کیو ٹیسٹ ہے۔ پہلی نظر میں یہ پہیلی آسان دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس کا درست جواب دینے کے لیے تصویر میں موجود لکیروں کو غور سے دیکھنا ہوگا۔
تصویر میں تین الگ الگ ڈبے بنے ہوئے ہیں۔ ہر ڈبے کے اندر کئی لکیریں موجود ہیں۔ پہلے ڈبے کے ساتھ نمبر 9 لکھا ہے، جبکہ دوسرے ڈبے کے برابر میں نمبر 1 موجود ہے۔ تیسرے ڈبے کے ساتھ سوالیہ نشان دیا گیا ہے۔
آپ کو معلوم کرنا ہے کہ سوالیہ نشان کی جگہ کون سا نمبر آئے گا۔ اس کے لیے صرف لکیروں کو دیکھنا کافی نہیں۔ پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ پہلے دو ڈبوں کے ساتھ موجود نمبرز کس بنیاد پر دیے گئے ہیں۔
اگر آپ پہلے ڈبے کو غور سے دیکھیں تو اس کے اندر موجود لکیریں کئی مقامات پر ایک دوسرے کو کراس کرتی ہیں۔ ان لکیروں کے درمیان بننے والے کراسنگ پوائنٹس کو گننے پر تعداد 9 بنتی ہے۔ اسی وجہ سے پہلے ڈبے کے ساتھ نمبر 9 دیا گیا ہے۔
دوسرے ڈبے میں لکیروں کا جائزہ لیں تو وہ صرف ایک مقام پر ایک دوسرے کو کراس کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ڈبے کے برابر میں نمبر 1 موجود ہے۔
اب باری تیسرے ڈبے کی ہے۔ اگر اس میں موجود تمام لکیروں کو غور سے دیکھا جائے تو وہ چار مختلف مقامات پر ایک دوسرے کو کراس کرتی ہیں۔ یہی اس پہیلی کا اصل اشارہ ہے۔
اس حساب سے سوالیہ نشان کی جگہ نمبر 4 آئے گا۔ یعنی پہلے ڈبے میں 9 کراسنگ پوائنٹس، دوسرے میں ایک اور تیسرے ڈبے میں چار کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں۔
یہ پہیلی بظاہر بہت سادہ معلوم ہوتی ہے، لیکن جواب تلاش کرنے کے لیے مشاہدے کی اچھی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اگر آپ نے بغیر کسی مدد کے درست جواب تلاش کرلیا تو آپ نے تصویر میں موجود لکیروں کے درمیان تعلق کو اچھی طرح سمجھا ہے۔
ایسی تصویری پہیلیاں وقت گزارنے کے ساتھ ذہنی مشق کا بھی ایک دلچسپ ذریعہ بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور بڑوں کے لیے یہ معمے مشاہدے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت آزمانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











