ایران نے آبنائے ہرمز اور مذاکرات کی بحالی کیلئے امریکہ کو نئی تجویز دے دی

ایران نے امریکہ کو ایک نئی اور جامع تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور حتمی امن معاہدے کے لیے مذاکرات کو فوری طور پر دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نامہ نگاروں اور ماہرین سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس ہفتے ثالث ممالک کے توسط سے امریکہ کو ایک اہم تجاویز کا مسودہ دیا گیا ہے۔ اس تجویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکہ سات دن کے اندر مخصوص شرائط کو پورا کرے تاکہ مذاکرات کا عمل دوبارہ پٹری پر لایا جا سکے اور آبنائے ہرمز کو کھولا جا سکے۔
اگرچہ وزیر خارجہ نے ان مخصوص شرائط کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ یہ شرائط کسی بھی طور پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے ہٹ کر نہیں ہیں، جو کہ رواں سال جون میں دونوں ممالک کے درمیان طے پائی تھی۔ اس یادداشت میں پابندیوں کے خاتمے، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی آپریشنز کو روکنے جیسے امور شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات، ایران سمیت دیگر اہم امور پر اختلافات برقرار
عباس عراقچی کے اس بیان کے ردعمل میں وائٹ ہاؤس کے ایک ذمہ دار اہلکار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس وقت ثالثوں کے ذریعے فریقین کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی اہلکار کا دعویٰ تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کی وجہ سے ایک انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے اور اسے کسی قسم کی کوئی جلدی نہیں ہے، کیونکہ گزشتہ شب ہی تقریباً 22 ملین بیرل تیل اس آبنائے سے بحفاظت گزرا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کی وضاحت کی کہ سات دن کی یہ مدت اس دن سے شروع ہوگی، جب امریکہ باضابطہ طور پر اس تجویز کو قبول کرنے کا فیصلہ کرے گا۔
تہران کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی عجلت میں نہیں ہے، تاہم یہ دونوں فریقوں کے لیے بہتر ہوگا کہ نومبر کے اوائل میں ہونے والے امریکی وسطی مدتی انتخابات سے پہلے ہی امریکہ اس پیشکش کو قبول کر کے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کر دے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











