پاکستان میں مارے گئے 260 افغان دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی، طالبان رجیم کی سرپرستی کے ناقابل تردید شواہد

تمام تر شواہد کے باوجود طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی جاری ہے، پاکستان میں مارے جانے والے 260 افغان دہشت گردوں کی شناخت ہو چکی ہے۔
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین کے استعمال اور طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کو ملنے والی پشت پناہی کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں مارے گئے 260 افغان دہشت گردوں کی مکمل شناخت نام، پتے اور خاندانی تفصیلات کے ساتھ ہو چکی ہے، جبکہ اس اعدادوشمار میں وہ غیر شناخت شدہ اور فعال دہشت گرد شامل ہی نہیں ہیں۔
ہلاک ہونے والے ان افغان دہشت گردوں کے جنازے ان کے آبائی علاقوں میں ادا کیے گئے، جن میں طالبان رجیم کے مقامی عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں دراندازی کرنے والے فتنۃ الخوارج کے گروپس میں 70 فیصد تک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سیکورٹی فورسز نے ضلع کیچ میں سرحد پار فرار کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک دہشت گرد کو ہلاک کردیا
طالبان رجیم نے افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اور نیٹو کا جدید اسلحہ فتنۃ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو فراہم کیا ہے، جس کے بعد اب امریکی ساختہ ایم فور رائفلیں، ریمنگٹن سنائپر رائفلیں اور نائٹ وژن ڈیوائسز دہشت گردوں کے زیرِ استعمال ہیں۔
رواں سال 2026 میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں تیرہ سو ستائس پاکستانی شہید اور دو ہزار چارسو چوراسی زخمی ہو چکے ہیں۔
بھارت کی پشت پناہی سے فتنۃ الخوارج اور فتنہ الہندوستان افغانستان سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی میں سرگرم عمل ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں فتنۃ الخوارج کی افرادی قوت تقریباً 6 ہزار سے ساڑھے 6 ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ہے، جنہوں نے سال 2025 کے دوران 600 سے زائد دہشت گرد حملے کیے، جن میں سے متعدد حملے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کیے گئے۔
فتنۃ الخوارج نے کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا کے علاقوں میں اپنے تربیتی مراکز قائم کر رکھے ہیں، جہاں افغان طالبان کے اہلکاروں کی شمولیت کے شواہد بھی ملے ہیں۔ ان دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف جب بھی کارروائی کی جاتی ہے تو طالبان رجیم فوراً ان کے دفاع میں سامنے آ جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس پہلے ہی افغانستان میں القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور داعش کی موجودگی کا انکشاف کر چکی ہیں۔
پاکستان کا مطالبہ بلکل واضح ہے کہ سرحد پار دراندازی فوری طور پر بند کی جائے اور دہشت گردوں کے یہ تمام ٹھکانے مکمل طور پر ختم کیے جائیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








