روس یورپ سے جنگ نہیں چاہتا، کثیر قطبی دنیا وقت کی ضرورت ہے: لاوروف

نیویارک: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ عالمی جنوب اور مشرق کے ممالک خودمختار ترقیاتی مراکز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر رہے ہیں اور اپنے خطوں میں سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھال رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ یہی سوچ روس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک پر دنیا پر اپنے بنائے ہوئے قواعد مسلط کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کو نئی عالمی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ سلامتی کونسل میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کی نمائندگی بڑھائی جانی چاہیے، جبکہ مغربی ممالک کے لیے مزید نشستیں نہیں ہونی چاہئیں۔
یوکرین تنازع پر سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس نے 2022 میں خصوصی فوجی آپریشن شروع کیا اور اس کے تمام مقاصد حاصل کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق روس کی سلامتی کو لاحق خطرات کا خاتمہ اور خطے میں پُرامن زندگی کی بحالی روس کی ترجیح ہے۔
روس امریکا تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ماسکو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مختلف سطحوں پر مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق اگر تعلقات صرف ایک دوسرے کے خلاف بیانات تک محدود ہوجائیں تو اسے سفارت کاری نہیں کہا جاسکتا۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ آج کی دنیا میں کوئی ایک ملک، چاہے وہ امریکا جیسی بڑی طاقت ہی کیوں نہ ہو، تنہا عالمی مسائل حل نہیں کرسکتا۔
روس اور یورپ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس کا یورپ کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے یورپ میں روس کے ساتھ جنگ کی تیاریوں سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیال بے معنی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











