آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کیوں ختم نہیں ہوتے؟ یہ آسان گھریلو طریقے آزمائیں

آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے چہرے کی خوبصورتی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ یہ مسئلہ کئی لوگوں میں عام ہے۔ بعض افراد میں یہ عارضی طور پر ظاہر ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں میں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
سیاہ حلقوں کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ نیند کی کمی، مسلسل تھکن، ذہنی دباؤ اور غیر متوازن طرز زندگی اس کی عام وجوہات میں شامل ہیں۔ الرجی اور موروثی عوامل بھی آنکھوں کے نیچے سیاہ پن کو نمایاں کرسکتے ہیں۔
ٹھنڈے ٹی بیگز سے عارضی آرام
آنکھوں کے گرد تھکن یا ہلکی سوجن محسوس ہو تو ٹھنڈے ٹی بیگز استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ استعمال شدہ ٹی بیگز کو کچھ دیر فریج میں رکھنے کے بعد بند آنکھوں پر چند منٹ رکھا جاسکتا ہے۔
ٹی بیگ کی ٹھنڈک آنکھوں کے اردگرد سوجن اور تھکن کو عارضی طور پر کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسے آنکھ کے اندر جانے سے بچانا ضروری ہے۔
کھیرے کے ٹکڑے بھی آزما سکتے ہیں
ٹھنڈے کھیرے کے قتلے بھی آنکھوں کے گرد تازگی کا احساس دے سکتے ہیں۔ کھیرے کے ٹکڑوں کو تقریباً 10 سے 15 منٹ تک بند آنکھوں پر رکھا جاسکتا ہے۔
اس طریقے سے ملنے والی ٹھنڈک جلد کو کچھ دیر کے لیے سکون دے سکتی ہے۔ تاہم اسے سیاہ حلقوں کا مستقل علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔
آنکھوں کے گرد جلد کو خشک نہ ہونے دیں
آنکھوں کے نیچے کی جلد نسبتاً نازک ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں ہلکا موئسچرائزر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بعض افراد بادام کا تیل بھی استعمال کرتے ہیں، لیکن کسی بھی چیز کو آنکھ کے اندر جانے سے بچانا ضروری ہے۔
اگر کسی چیز کے استعمال کے بعد جلن، سرخی یا خارش محسوس ہو تو اسے فوراً صاف کردیں اور دوبارہ استعمال نہ کریں۔
نیند پوری کرنا بھی ضروری ہے
سیاہ حلقوں کو کم نمایاں رکھنے کے لیے روزانہ مناسب نیند لینا اہم ہے۔ مسلسل کم نیند لینے سے آنکھوں کے گرد تھکن زیادہ نمایاں ہوسکتی ہے۔
اس کے ساتھ پانی مناسب مقدار میں پینا اور متوازن غذا لینا بھی مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ پھل، سبزیاں اور مختلف غذائی اجزا والی خوراک روزمرہ معمول کا حصہ بنانا بہتر ہے۔
الرجی کی صورت میں احتیاط کریں
اگر آنکھوں کے گرد خارش، پانی آنا یا سوجن بھی ہو تو الرجی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں آنکھوں کو بار بار رگڑنے سے گریز کریں۔ آنکھیں رگڑنے سے اردگرد کی جلد میں جلن بڑھ سکتی ہے۔
اگر سیاہ حلقے طویل عرصے تک برقرار رہیں، اچانک زیادہ نمایاں ہوجائیں یا ان کے ساتھ مسلسل سوجن، خارش یا کوئی اور مسئلہ بھی ہو تو ماہرِ جلد یا متعلقہ ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












