ایم ڈی کیٹ ٹاپ 20 میں کراچی کا ایک بھی طالب علم نہیں؟ نتائج پر سوالات، متنازع آنسر کیز عدالت پہنچ گئیں

حکومت نے میڈیکل ڈگری پروگرام کی فیس حد مقرر کر دی
کراچی: ایم ڈی کیٹ 2026 کی آنسر کیز پر اعتراضات کے معاملے میں امیدواروں نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے اور سوالیہ پرچہ و آنسر کیز عوام کے سامنے لانے کی درخواست دائر کردی ہے۔
امیدواروں کی جانب سے ایڈووکیٹ محمد نواز ڈاہری کے ذریعے دائر آئینی درخواست میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC)، سکھر آئی بی اے، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سمیت 6 فریقین کو نامزد کیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایم ڈی کیٹ کا سوالیہ پرچہ اور آنسر کیز متعلقہ ویب سائٹ پر فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت کی جائے اور دونوں دستاویزات زیادہ سے زیادہ 3 روز کے اندر اپ لوڈ کی جائیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 20 ستمبر کو ہونے والے ایم ڈی کیٹ کے بعد امیدواروں کو صرف جوابی شیٹ کی کاربن کاپی فراہم کی گئی، جبکہ انہیں سوالیہ پرچہ اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
درخواست گزاروں کے مطابق اصل سوالیہ پرچہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے امیدوار یہ جانچنے کی پوزیشن میں نہیں کہ ان کے دیے گئے جوابات اور جاری کردہ آنسر کیز میں کوئی فرق موجود ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرچہ دیکھے بغیر کسی مخصوص سوال یا جواب پر اعتراض مؤثر انداز میں اٹھانا مشکل ہے۔
درخواست میں تمام ایم ڈی کیٹ امیدواروں کو سوالیہ پرچے تک رسائی دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی جوابی شیٹ اور آنسر کیز کا سوالات کی روشنی میں تفصیلی جائزہ لے سکیں۔
وکیل درخواست گزار محمد نواز ڈاہری کے مطابق چند نمبروں کا فرق بھی امیدوار کی میرٹ پوزیشن اور میڈیکل کالج میں داخلے پر اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے حتمی میرٹ لسٹ جاری کرنے سے قبل اعتراضات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
درخواست گزاروں نے سندھ ہائیکورٹ سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ معاملہ حل ہونے تک ایم ڈی کیٹ کی حتمی میرٹ لسٹ جاری کرنے اور میڈیکل کالجز میں داخلوں کو حتمی شکل دینے سے روکا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوالیہ پرچہ اور آنسر کیز مکمل طور پر دستیاب ہونے سے امیدوار اپنے جوابات کا درست موازنہ کرسکیں گے اور کسی سوال یا جواب پر اعتراض کی صورت میں اسے متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنے میں آسانی ہوگی۔
دوسری جانب سکھر آئی بی اے کی جانب سے ایم ڈی کیٹ 2026 کے مختلف پیپر ورژنز کی آنسر کیز جاری کیے جانے کا ریکارڈ موجود ہے، جبکہ امیدواروں کا موجودہ مطالبہ بنیادی طور پر اصل سوالیہ پرچے تک رسائی سے متعلق ہے۔
اب سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر ہونے والی کارروائی اور عدالت کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات سے آئندہ کا طریقہ کار واضح ہوگا۔
Catch all the تعلیم News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









