ایڑی کا درد معمولی نہیں!!! جسم کی ان خطرناک علامات کو نظر انداز نہ کریں

ایڑی میں درد ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ تکلیف پیر کے اندرونی، پچھلے یا اطراف کے حصے میں محسوس ہوسکتی ہے۔ بعض افراد کو چلنے کے دوران زیادہ درد ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگوں میں آرام کے بعد دوبارہ چلنے پر تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
ایڑی پر مسلسل دباؤ، زیادہ جسمانی سرگرمی اور چوٹ اس درد کی عام وجوہات میں شامل ہیں۔ بعض صورتوں میں پیر یا ٹخنے کے مسائل بھی ایڑی کی تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں۔
ایڑی میں درد کیوں ہوتا ہے؟
ایڑی پیر کی اہم ساخت کا حصہ ہے۔ انسانی پیر میں 26 ہڈیاں اور 33 جوڑ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد پٹھے، ٹینڈن اور دیگر ٹشوز پیر کو حرکت دینے اور جسم کا وزن سنبھالنے میں مدد دیتے ہیں۔
روزانہ چلنے، دوڑنے یا زیادہ دیر کھڑے رہنے سے ایڑی پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ اگر دباؤ زیادہ ہوجائے یا پیر کو مناسب آرام نہ ملے تو درد پیدا ہوسکتا ہے۔ کسی حادثے یا ورزش کے دوران لگنے والی چوٹ بھی اس مسئلے کی وجہ بن سکتی ہے۔
پلانٹر فیشیائٹس بھی اہم وجہ
ایڑی کے درد کی عام وجوہات میں پلانٹر فیشیائٹس شامل ہے۔ اس کیفیت میں پیر کے نچلے حصے میں موجود ایک مضبوط ٹشو بینڈ پر دباؤ پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس حصے میں جلن اور درد ہوسکتا ہے۔
یہ درد بعض لوگوں میں صبح اٹھ کر پہلے قدم لینے کے وقت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد تکلیف کم ہوسکتی ہے، لیکن زیادہ دیر کھڑے رہنے یا جسمانی سرگرمی کے بعد دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
ایکیلس ٹینڈن کی تکلیف
ایڑی کے پچھلے حصے میں درد کی ایک وجہ ایکیلس ٹینڈنائٹس بھی ہوسکتی ہے۔ ایکیلس ٹینڈن پنڈلی کے پٹھوں کو ایڑی کی ہڈی سے جوڑتا ہے۔
زیادہ دوڑنے، ورزش میں اچانک اضافہ کرنے یا مسلسل جسمانی دباؤ کی وجہ سے اس ٹینڈن میں سوزش یا انجری ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں ایڑی کے پچھلے حصے میں درد اور بعض اوقات سوجن بھی محسوس ہوسکتی ہے۔
موچ یا چوٹ کو نظر انداز نہ کریں
ورزش، دوڑ یا روزمرہ کام کے دوران پیر یا ٹخنے میں موچ آسکتی ہے۔ چوٹ کی شدت کے مطابق درد معمولی بھی ہوسکتا ہے اور زیادہ بھی۔ بعض صورتوں میں ایڑی کے قریب سوجن یا چلنے میں مشکل بھی پیش آسکتی ہے۔
اس کے علاوہ جوڑوں سے متعلق کچھ بیماریاں بھی ایڑی میں درد پیدا کرسکتی ہیں۔ اگر تکلیف بار بار ہو رہی ہو تو صرف گھریلو علاج پر انحصار کرنے کے بجائے اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
گھر پر کیا احتیاط کی جاسکتی ہے؟
اگر درد معمولی نوعیت کا ہے تو کچھ دن پیر کو مناسب آرام دینا مددگار ہوسکتا ہے۔ ایسی سرگرمیوں کو کم کریں جن سے تکلیف بڑھتی ہو۔ زیادہ دیر کھڑے رہنے اور غیر ضروری دوڑنے سے بھی کچھ وقت کے لیے گریز کیا جاسکتا ہے۔
متاثرہ حصے پر کپڑے میں لپٹی برف تقریباً 10 سے 15 منٹ تک لگائی جاسکتی ہے۔ یہ عمل دن میں ایک سے دو مرتبہ کیا جاسکتا ہے۔ برف کو براہ راست جلد پر نہیں لگانا چاہیے۔
آرام دہ جوتوں کا استعمال بھی اہم ہے۔ ایسے جوتے پہنیں جن میں پاؤں کو مناسب سپورٹ ملے اور ایڑی پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔
درد کی دوا لینے کی ضرورت ہو تو اپنی صحت اور دیگر ادویات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
اگر ایڑی میں اچانک بہت شدید درد ہو، نمایاں سوجن یا سرخی پیدا ہوجائے یا پیر پر وزن ڈالنا مشکل ہوجائے تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
اسی طرح اگر گھر پر احتیاط کے باوجود درد مسلسل برقرار رہے یا چند ہفتوں میں بہتری نہ آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بار بار ہونے والے درد کی صورت میں بھی ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے تاکہ اصل وجہ کا پتا چل سکے۔
ایڑی کے درد سے بچنے کے طریقے
ایڑی کو مسائل سے بچانے کے لیے مناسب جوتوں کا انتخاب کریں۔ ورزش کے دوران اپنی سرگرمی کی نوعیت کے مطابق جوتے پہنیں۔ اگر آپ ورزش شروع کر رہے ہیں تو شدت اچانک بڑھانے کے بجائے اسے آہستہ آہستہ بڑھائیں۔
صحت مند وزن برقرار رکھنا بھی پاؤں اور ایڑی پر پڑنے والے دباؤ کو کم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جسمانی سرگرمی کے بعد پاؤں میں زیادہ تھکن یا درد محسوس ہو تو مناسب آرام کریں۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












