ایران کی قیادت ختم ہو چکی، نہیں جانتے بات چیت کس سے کریں، ٹرمپ

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے سات ماہ قبل ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب تھا، اب امریکہ موجودہ قیادت کے ساتھ بات چیت کے لیے راستہ تلاش کر رہا ہے۔
ٹیکساس کے شہر ڈینٹن میں پیٹر بلٹ فیکٹری کے دورے اور ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع پر دعویٰ کیا کہ سات ماہ قبل جب جنگ کا آغاز ہوا تھا، اس وقت ایران ایٹمی ہتھیار کے حصول سے محض تین سے چار ہفتے کی دوری پر تھا، یا شاید اس سے بھی کم وقت رہ گیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کو جلنے اور اسرائیل سمیت خطے کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھانے کا مشکل فیصلہ کیا، ورنہ بعد میں یہ خطرہ امریکہ اور یورپ تک پھیل جاتا۔
یہ بھی پڑھیں : ستمبر میں ایران نے ایک بوند تیل بھی برآمد نہیں کیا، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ
ایرانی قیادت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران کی سابقہ اعلیٰ قیادت کا بیشتر حصہ اب ختم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے انہیں یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ اس وقت بات چیت کے لیے کس سے رابطہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ افراد کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کسی طرح مذاکرات کی میز پر جایا جا سکے۔
ایرانی معیشت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی کرنسی کی کوئی قیمت نہیں رہی، ملک کے پاس مالی وسائل ختم ہو چکے ہیں اور ان کے تمام 159 بحری جہاز سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔ انہوں نے پختہ یقین ظاہر کیا کہ اس جنگ کا انجام بہت آسان ہوگا اور امریکہ بہت جلد فتح حاصل کر لے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












