ایران نئے امریکی حملوں کی صورت میں خطے سے باہر بھی وسیع تر ردِعمل کی تیاری کر رہا ہے، رائٹرز

رپورٹ کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے کیے تو وہ مشرق وسطیٰ اور خطے سے باہر بھی شدید اور وسیع تر ردِعمل کی تیاری کر رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تہران کی قیادت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ کسی بھی نئی امریکی مہم کا جواب پہلے سے زیادہ سخت دیا جانا چاہیے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
تین سینئر ایرانی حکام اور بات چیت سے واقف ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ایرانی رہنما ممکنہ اہداف کے دائرہ کار کو مشرق وسطیٰ سے باہر کے مقامات تک وسیع کرنے کے منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان کی نیویارک سے واپسی کے بعد سے رہنماؤں اور سینئر حکام نے واشنگٹن کی جانب سے ایک اور حملہ کرنے کی صورت میں ردِعمل کی حد اور وقت پر توجہ مرکوز کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جوہری عزائم سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، 60 فیصد یورینیم کی افزودگی جاری ہے، امریکی سفیر
ماہرین کے مطابق تہران کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک اور بڑی مہم شروع کریں گے یا محدود حملے کریں گے، لیکن ایران کسی بھی علامتی اقدام کا سخت جواب دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
تہران نے لبنان، یمن اور عراق میں اپنی اتحادی جماعتوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر حملہ ہونے کی صورت میں ایک مربوط ردِعمل کے لیے تیار رہیں۔
دوسری جانب تہران معاشی دباؤ کے پیش نظر مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھ رہا ہے۔ امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے تیل کی برآمدات رک چکی ہیں اور معاشی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تہران نے قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو ایک تجویز پیش کی تھی، جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے واگزار کرنے اور تیل کی پابندیوں سے استثنیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جسے صدر ٹرمپ نے مسترد کر دیا تھا۔ البتہ قطری ذرائع کے مطابق تہران کو ایک امریکی جواب موصول ہوا ہے، جو زیرِ جائزہ ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












