ہفتہ، 13-جون،2026
جمعہ 1447/12/26هـ (12-06-2026م)

نایاب خزانے کی دریافت نے ہزاروں سال پرانے رازوں سے پردہ اٹھا دیا

26 مارچ, 2025 17:34

محققین کا کہنا ہے کہ میٹل ڈیٹیکٹر کی مدد سے دریافت کیے گئے آئرن ایج نوادرات کا ذخیرہ 2 ہزار سال قبل برطانیہ میں زندگی کے بارے میں ہماری تفہیم کو تبدیل کر سکتا ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ نے برطانیہ کے شمالی یارکشائر کے قریب ملسنبی گاؤں میں آئرن ایج کے دور کے 800 سے زائد نوادرات دریافت کیے جو 2 ہزار سال قبل کے دور کے بارے میں ہماری معلومات کو بدل سکتے ہیں۔

یہ خزانہ سب سے پہلے دسمبر 2021 میں میٹل ڈیٹیکٹر استعمال کرنے والے پیٹر ہیڈز نے دریافت کیا تھا۔

ڈرہم یونیورسٹی کے ماہرین نے برٹش میوزیم کے مشورے اور ہسٹارک انگلینڈ کے تعاون سے 2022 میں اس جگہ کی کھدائی کی۔ انہیں وہاں رتھوں کے پرزے، 28 لوہے کے پہیے، ایک دیگچہ، شراب پینے کا برتن، تقریبی نیزے اور کم از کم 14 گھوڑوں کے لیے سازو سامان سمیت متعدد اشیاء ملی ہیں۔

یونیورسٹی پروفیسر ٹام مور نے کہا کہ جب ہم نے کھدائی کر کے دیکھا تو ہمیں احساس ہوا کہ ہم نے کچھ بہت ہی خاص چیز دریافت کر لی ہے۔

ابتدائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اشیاء پہلی صدی عیسوی میں رومیوں کے برطانیہ پر حملے کے دور میں دفن کی گئی تھیں۔

ماہرین کے مطابق دریافت ہونے والے سازو سامان پر سرخ بحیرہ روم کے مرجان اور رنگین شیشے لگے ہوئے ہیں جو اس دور کے عام سازو سامان سے کہیں بڑے اور بہتر ہیں۔

ہسٹارک انگلینڈ نے بتایا کہ ان اشیاء کی شناخت کے لیے ساؤتھمپٹن یونیورسٹی کی جدید ترین ایکس رے ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اشیاء یورپ کے دیگر حصوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اس دور میں طویل فاصلوں تک تجارت اور مشترکہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ڈرہم یونیورسٹی کی ٹیم اس دریافت کو برطانیہ اور یورپ کے لیے غیر معمولی قرار دے رہی ہے۔

کھدائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر اشیاء یا تو جلی ہوئی یا ٹوٹی ہوئی ہیں۔ ماہرین کے خیال میں یہ دولت اور طاقت کے اظہار کا کوئی علامتی عمل ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ اشیاء کسی جنازے کی چتا پر جلائی گئی ہوں، تاہم وہاں سے انسانی باقیات نہیں ملی ہیں۔

Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔