تیل کی عالمی منڈی میں سپلائی کا تاریخی خسارہ اور مستقبل کے خطرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول بھی دیا جائے، تب بھی عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کا بحران ختم نہیں ہوگا، کیونکہ لاجسٹک ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان انتہائی گہرا ہے۔
عالمی تیل کی منڈی اس وقت سپلائی میں خلل کے ایک ایسے بے مثال دور سے گزر رہی ہے، جہاں صرف سیاسی حل کافی نہیں ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آج آبنائے ہرمز کو کھول بھی دیا جائے تو بھی سپلائی بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے۔ اس کی بڑی وجہ لاجسٹک مسائل ہیں۔
سمندر میں موجود ٹینکرز کو خالی ہونے کے لیے چالیس دن درکار ہیں جبکہ امریکہ کی طرف موڑے گئے، بحری جہازوں کو واپسی کے لیے تین ماہ کا عرصہ لگے گا۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی منڈی میں تیل بردار جہازوں کی قلت، چینی کارخانوں کو بڑے آرڈر موصول
مشرق وسطیٰ کے زمینی ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے بھی کروڑوں بیرل تیل کی ضرورت ہے، جو فوری طور پر دستیاب نہیں ہوگا۔
تخمینے کے مطابق اپریل کے آخر تک ذخیرہ شدہ تیل کا مجموعی نقصان ایک ارب بیرل سے تجاوز کر جائے گا، جو تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔
امریکی تجارتی خام تیل کے ذخائر بھی اپنی کم ترین سطح یعنی چالیس کروڑ بیرل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو امریکی حکام کو تیل کی برآمد پر پابندی لگانا پڑے گی، ورنہ ان کی اپنی ریفائنریز بند ہو جائیں گی۔
اس وقت مارکیٹ کو متوازن کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی طلب میں کورونا لاک ڈاؤن جیسی بڑی کمی لائی جائے، ورنہ پچانوے ڈالر فی بیرل کی قیمت بھی اس بحران کو حل نہیں کر سکے گی۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











