اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا، نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان

بیرونی قرضوں میں کمی، ملک نے نئے قرضے نہیں لیے؛ گورنر اسٹیٹ بینک
کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پالیسی ریٹ بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا گیا ہے، جو پہلے اس سے ایک فیصد کم تھا۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مہنگائی، عالمی معاشی دباؤ اور مالیاتی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے کا مقصد افراطِ زر کو قابو میں رکھنا اور معیشت میں استحکام پیدا کرنا ہے۔
شرح سود بڑھنے سے بینکوں سے قرض لینا مہنگا ہو جائے گا، جس کا اثر کاروباری سرگرمیوں، صنعتی شعبے اور عام صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے۔
خاص طور پر ہاؤسنگ، آٹو فنانسنگ اور کاروباری قرضوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک کا مؤقف ہے کہ سخت مالیاتی پالیسی کے ذریعے مہنگائی پر قابو پانے اور روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔
کاروباری حلقوں نے شرح سود میں اضافے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ماہرین اسے ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض کے مطابق اس سے سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ مہینوں میں مہنگائی اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال نئی مانیٹری پالیسی کے اثرات کا تعین کرے گی۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











