جمعرات، 28-مئی،2026
جمعرات 1447/12/11هـ (28-05-2026م)

توانائی بحران پر پاکستان کا انحصار چیلنج، دو ماہ میں 2 ارب ڈالر کی پیٹرولیم درآمد، درآمدی فیول سے چھٹکارے کی ضرورت پر زور

20 مئی, 2026 13:38

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حالیہ دو ماہ کے دوران پاکستان نے تقریباً 2 ارب ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہوگا۔

انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدہ صورتحال کے باعث توانائی کی سپلائی چین متاثر ہوئی، جس میں آبنائے ہرمز کی بندش جیسے خدشات بھی شامل رہے۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق توانائی کے تحفظ (انرجی سکیورٹی) کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں بڑے اسٹوریجز اور جدید انفراسٹرکچر کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھیں اور بعض رپورٹس کے مطابق دبئی خام تیل 170 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جس کے باعث ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں پر شدید دباؤ پڑا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ انشورنس اور سکیورٹی کے اخراجات بڑھنے سے بھی درآمدی تیل مہنگا پڑا، جس کا بوجھ معیشت پر پڑا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گیس سیکٹر میں گردشی قرضہ ایک بڑا مسئلہ ہے، تاہم حکومت نے کوشش کی ہے کہ اس میں مزید اضافہ نہ ہو۔

وفاقی وزیر کے مطابق موجودہ صورتحال میں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے توانائی سپلائی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور متبادل ذرائع سے تیل کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ قطر اور سعودی عرب نے بھی پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کیا ہے۔

علی پرویز ملک کے مطابق سعودی عرب نے یانبو سے پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات فراہم کیں، جس سے سپلائی میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملی۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو طویل مدت میں درآمدی فیول پر انحصار کم کرنا ہوگا تاکہ توانائی کا بحران بار بار پیدا نہ ہو۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔