گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے بُری خبر آگئی

Bad News for Car Buyers
پنجاب حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں گاڑی مالکان، تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے کئی اہم ٹیکس تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
سب سے اہم تبدیلی گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس سے متعلق کی گئی ہے۔ تقریباً 20 سال بعد ایک ہزار سی سی سے زائد کمرشل اور بڑی گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
فنانس بل کے مطابق اب کار ڈیلرز کو حکومت کا ود ہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شو روم گاڑی کی رجسٹریشن مکمل کیے بغیر صارف کے حوالے کرتا ہے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ہوٹلوں میں کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے پر سیلز ٹیکس کی شرح 8 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح مختلف عام خدمات پر بھی سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے لیے جرمانے بھی سخت کر دیے ہیں۔ نئے قانون کے مطابق خلاف ورزی پر 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ اسی طرح جو تاجر مسلسل دو ماہ تک ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروائیں گے، انہیں ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے خارج کر دیا جائے گا۔
فنانس بل میں فارن ایکسچینج کمپنیوں اور منی چینجرز کی خدمات پر 3 فیصد ٹیکس بھی عائد کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے کپاس کے شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے کچی کپاس پر عائد "کاٹن فیس” ختم کر دی ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












