بدھ، 1-جولائی،2026
بدھ 1448/01/16هـ (01-07-2026م)

ایف بی آر مسلسل دوسرے سال بھی ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام، 975 ارب روپے کا شارٹ فال

01 جولائی, 2026 14:45

ایف بی آر مسلسل دوسرے سال بھی اپنا بڑا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور ہدف سے 975 ارب روپے کم ٹیکس جمع کر سکا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مسلسل دوسرے سال بھی اپنا سالانہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے ایف بی آر کو ٹیکس وصولی کا نظرثانی شدہ ہدف 13 ہزار 979 ارب روپے دیا تھا، تاہم ایف بی آر ہدف سے ایک کھرب روپے یعنی 975 ارب روپے کم ٹیکس جمع کر سکا۔

مالی سال کے اختتام پر ایف بی آر نے مجموعی طور پر تقریباً 13 ہزار 3 کھرب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ اس وصولی میں بینکاری نظام کے ذریعے 12 ہزار 97 کھرب روپے ٹیکس جمع ہوا جبکہ رات گئے بینکاری نظام کے تحت مزید 34 ارب روپے کی کلیئرنس متوقع تھی۔

ڈالر کے حساب سے بات کی جائے تو فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تقریباً 46 ارب ڈالر کے مساوی ٹیکس جمع کیا ہے، جبکہ حکومت نے آئی ایم ایف کی مشاورت سے جون 2025 میں ایف بی آر کو 50 ارب ڈالر کے مساوی ٹیکس وصولی کا ہدف دیا تھا، یوں ڈالر کے لحاظ سے 4 ارب ڈالر کم جمع ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : ایف آئی اے کی بڑی کامیابی، 6 ارب روپے کے ٹیکس و پیٹرولیم لیوی فراڈ کا سراغ

ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں گزشتہ سال کی نسبت 10.7 فیصد اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اضافے کی یہ شرح ملکی معیشت کی 14 فیصد برائے نام نمو سے کم ہے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران ایف بی آر نے 588 ارب روپے ٹیکس ریفنڈز کی مد میں جاری کیے، جو کہ مالی سال 2025 کے مقابلے میں 115 ارب روپے زیادہ ہیں۔

مختلف ٹیکس شعبوں کی بات کریں تو انکم ٹیکس کی مد میں 6.6 کھرب روپے وصول ہوئے، جو ہدف سے 323 ارب روپے کم ہیں۔

سیلز ٹیکس کی مد میں 4 ہزار 265 ارب روپے کی وصولی ہوئی، جو ہدف سے 494 ارب روپے کم رہی۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 840 ارب روپے اکٹھے ہوئے، جو ہدف سے 51 ارب روپے کم ہیں، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1.33 کھرب روپے کی وصولیاں ہوئیں، جو ہدف سے 108 ارب روپے کم رہیں۔

حکومت نے نئے مالی سال 2026-27 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 15 ہزار 264 کھرب روپے ٹیکس وصولی کا بھاری ہدف دیا ہے، جس کے حصول کے لیے 17.4 فیصد اضافی نمو ہونا ضروری ہے۔

نئے بجٹ میں ایک کھرب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس اور نفاذی اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں، کیونکہ نئے مالی سال میں دفاعی اخراجات، بڑے آبی ذخائر کی تعمیر، خوراک اور ایندھن سمیت تمام اہم منصوبوں کی تکمیل اس نئے ٹیکس ہدف کی وصولی سے مشروط ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔