بدھ، 1-جولائی،2026
بدھ 1448/01/16هـ (01-07-2026م)

نئی آٹو پالیسی کا اعلان، چھوٹی گاڑیاں 20 سے 25 لاکھ میں دستیاب ہونے کی توقع

01 جولائی, 2026 09:16

اسلام آباد: حکومت نے نئی آٹو پالیسی جولائی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنے اور انہیں 20 سے 25 لاکھ روپے کے درمیان دستیاب ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس چیئرمین سید حفیظ الدین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی، نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک وہیکلز کے معیار سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کے سیکرٹری نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری کی سربراہی میں قائم آٹو پالیسی کمیٹی کی سفارشات جولائی تک مکمل کر لی جائیں گی، جس کے بعد نئی پالیسی کا باقاعدہ اطلاق کر دیا جائے گا۔

پالیسی کے تحت چھوٹی گاڑیوں کو خصوصی فروغ دینے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، جبکہ چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کو بھی سستے داموں متعارف کرانے کا منصوبہ شامل ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2030ء تک ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال ملک میں 1 لاکھ 60 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلز اور 12 ہزار 800 الیکٹرک گاڑیاں مقامی سطح پر تیار کی گئی ہیں۔

دوسری جانب اجلاس کے دوران الیکٹرک بائیکس اور بیٹریوں کے معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ارکان کمیٹی نے کہا کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی کئی الیکٹرک بائیکس کا معیار تسلی بخش نہیں اور ان کی بیٹریاں چند ماہ میں ہی خراب ہو جاتی ہیں۔

ایک رکن نے کہا کہ ملک میں تیار ہونے والی الیکٹرک بائیکس کا معیار انتہائی کمزور ہے اور عالمی معیار کے مطابق بہتری لانا ضروری ہے۔

کمیٹی میں سبسڈی کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ چیئرمین کمیٹی نے نشاندہی کی کہ الیکٹرک موٹر سائیکلز پر دی جانے والی سرکاری سبسڈی میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں یہ سہولت منصفانہ طور پر تقسیم نہیں ہو رہی۔

ارکان نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر معیاری موٹر سائیکلز، ناقص بیٹریوں اور سبسڈی کے نظام کی تحقیقات کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں پروٹون گاڑیوں کی کمپنی کے نمائندے نے بھی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کی مداخلت کے بعد اب تک 93 فیصد صارفین کو ایڈوانس رقم واپس کی جا چکی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 816 صارفین کو ایک ارب دس کروڑ روپے کی ادائیگیاں مکمل کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ باقی 7 فیصد صارفین کو بھی قانونی کارروائی مکمل ہوتے ہی رقم واپس کر دی جائے گی۔

کمیٹی ارکان نے اس پیش رفت کو صارفین کے لیے اہم ریلیف قرار دیا۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔