سولر اور ونڈ منصوبوں کے لیے بیٹری اسٹوریج لازمی قرار

Government Revises Solar Panel Rules
وفاقی حکومت نے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کو مزید مؤثر اور محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم پالیسی فیصلہ کر لیا ہے۔
حکومت نے آئندہ 800 میگاواٹ کے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کی نیلامی میں حصہ لینے والے تمام سرمایہ کاروں کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کی تنصیب لازمی قرار دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نیشنل گرڈ کو زیادہ مستحکم بنانا، بجلی کے ضیاع کو کم کرنا اور مستقبل میں بڑھتی ہوئی سولر اور ونڈ پاور کی پیداوار کو بہتر انداز میں منظم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق یہ شرط پاکستان کی پہلی ویلنگ آکشن کے تحت نافذ کی جا رہی ہے، جہاں سرمایہ کار مسابقتی بولی کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں حصہ لیں گے۔ نئے قواعد کے تحت ہر سولر یا ونڈ پاور منصوبے کے ساتھ کم از کم منصوبے کی پیداواری صلاحیت کے 10 فیصد کے برابر بیٹری اسٹوریج سسٹم نصب کرنا ضروری ہوگا۔ اگر کوئی سرمایہ کار اس سے زیادہ بیٹری اسٹوریج لگانا چاہے تو اسے بھی اجازت ہوگی۔
انڈپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد نیشنل گرڈ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک بھر میں سولر سسٹمز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث دن کے وقت گرڈ پر بجلی کی طلب کم ہو جاتی ہے، جبکہ شام کے وقت اچانک طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے بجلی کے نظام کو چلانا مشکل ہو جاتا ہے اور گرڈ کے عدم استحکام کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین اس مسئلے کو "ڈک کروو” (Duck Curve) کا نام دیتے ہیں۔ اس میں دن کے وقت سولر توانائی کی زیادہ پیداوار کی وجہ سے گرڈ پر لوڈ کم ہو جاتا ہے، لیکن سورج غروب ہونے کے بعد بجلی کی طلب تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم دن کے وقت اضافی بجلی کو محفوظ رکھے گا اور شام یا ضرورت کے وقت یہی بجلی دوبارہ گرڈ میں فراہم کرے گا۔ اس طرح بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان بہتر توازن برقرار رکھا جا سکے گا۔
آئی ایس ایم او کے مطابق بیٹری اسٹوریج صرف گرڈ کو مستحکم نہیں بنائے گا بلکہ سرمایہ کاروں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ مالیاتی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے منصوبے طویل مدت میں زیادہ منافع دے سکتے ہیں کیونکہ بجلی کو ایسے اوقات میں فروخت کیا جا سکے گا جب اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ اس سے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی معاشی افادیت بھی بہتر ہوگی۔
یہ فیصلہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور سرمایہ کاروں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ بیشتر شرکاء نے اس اقدام کی حمایت کی اور اسے پاکستان کی بجلی مارکیٹ کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ دنیا کے کئی ممالک، جن میں بھارت، چین، فلپائن اور ڈومینیکن ریپبلک شامل ہیں، پہلے ہی اپنے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کے ساتھ بیٹری اسٹوریج لازمی قرار دے چکے ہیں تاکہ بجلی کا نظام زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔
حکومت نے نیلامی کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے چند اضافی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ ان میں بولی جمع کروانے کی آخری تاریخ میں ضرورت پڑنے پر توسیع کی اجازت دینا اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک آزاد کمیٹی قائم کرنا شامل ہے۔ مجوزہ کمیٹی میں آزاد ارکان اور متعلقہ ادارے کے چیف ایگزیکٹو شامل ہوں گے تاکہ بولی کے عمل پر سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔
یہ تمام تجاویز منظوری کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بھیج دی گئی ہیں۔ نیپرا نے تمام متعلقہ فریقوں سے سات روز کے اندر اپنی آراء طلب کر لی ہیں۔ منظوری کے بعد یہ قواعد آئندہ قابلِ تجدید توانائی منصوبوں پر لاگو ہوں گے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










