کراچی کے مشہور علاقوں کے عجیب و غریب نام

کراچی دنیا کا منفرد ترین شہر ہے ، یہاں کا طرز زندگی ہو یا طرز معاشرت دونوں بہت منفرد ہے۔ یہ شہر بہت ساری وجوہات کی بناء پر منفرد مقام رکھتا ہے۔
کراچی شہر دنیا کے بڑوں شہروں میں سے ایک ہے ، اس شہر میں کڑوڑوں افراد سینکڑوںعلاقوں میں پہلے ہوئےہیں۔ کراچی والوں کے طرز زندگی کی طرح یہاں کے علاقوں کے نام بھی بہت مختلف ہیں ۔
جی ہاں کراچی شہر کی طرح اس کے علاقوں کی بھی اپنی ہی تاریخ ہے ،اور ان علاقوں کے عجیب وغریب نام کی تو بہت ہی مختلف قصے کہانیاں ہیں۔
ان عجیب و غریب ناموں کے پیچھے بہت سی عجیب و غریب کہانیاں بھی مشہور ہیں ، وہ کیا کہانیاں ہیں جانتے ہیں اس تحریر میں۔
نمائش :
کراچی کے قلب میں واقع نمائش ویسے تو بہت مشہور ہے ،مگر اس نام کے پیچھے کیا حقیقت ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔ 1950 میں جب شاہ ایران پاکستان کے دورے پر آئے اور ان کے استقبال کے لیے بندر روڈ یعنی اب ایم اے جناح روڈکو سجایا گیا مگر اس کی واحد چورنگی پر بڑے استقبالیہ دروازے لگائے گئے۔

پھر اس مقام پر ایک نمائش یا میلے کا انعقاد ہوا جسے لکی ایرانی سرکس تھا جس کو بہت زیادہ مقبولیت ملی اور اس کے بعد چورنگی کے بس اسٹاپ کو نمائش کہا جانے لگا، اب اس اسٹاپ کی جگہ کو پرانی نمائش بھی کہا جاتا ہے مگر یہ چورنگی نمائش چورنگی کے نام سے ہی مشہور ہوگئی۔
لالو کھیت :
نمائش سے چند کلو میٹر کی مسافت پر ایک اور مشہور علاقہ واقع ہے جس کا نام سب نے سن رکھا ہے اور وہ ہے لولو کھیت، ویسے تواسے لیاقت آباد کا نام دیے بھی کافی عرصہ ہوچکا ہے مگر اب بھی لوگ اسے لالو کھیت ہی کہتے ہیں۔

کسی زمانے میں یہ ایک زرعی علاقہ تھا جہاں پر زراعت کی جاتی تھی اور یہ دریائے لیاری کے کنارے پر واقع تھا ۔پاکستان کے قیام کے بعد حکومت نے ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے زمین خریدنا شروع کی اور ایک کسان لالو سے اس اراضی کو خریدا اور اس طرح یہ لالو کھیت کے نام سے مشہور ہوگیا۔
میٹھا در اور کھارادر :
ان علاقوں کا شمار کراچی کے قدیم ترین علاقوں میں ہوتا ہے، ان دونوں علاقوں کے ناموں کی وجہ 18 ویں صدی میں چھپی ہوئی ہے۔
کسی زمانے میں یہ پورا علاقہ دریائے لیاری سے لے کر بحیرہ عرب کے درمیان 35 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا اور ایک فصیل آس پاس پھیلی ہوئی تھی جس کا مغربی دروازہ سمندر کی جانب جاتا تھا اور اسی لیے اسے کھارا در کہا جانے لگا یعنی کھارے پانی کا دروازہ۔

دوسرا دروازہ شمال مشرق میں دریائے لیاری کی جانب لے جاتا تھا اور اسے میٹھا در کہا جانے لگا یعنی میٹھے پانی کا دروازہ ، اب دریا نالے میں تبدیل ہوچکا ہے اور دروازے بھی نہ رہے مگر یہ نام اب تک برقرار ہیں۔
ناگن چورنگی:
اس نام کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ، کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں یہاں سانپ بستے تھے تو کچھ کے خیال میں چورنگی کا ڈیزائن کچھ اس قسم کا تھا کہ اسے دیکھ کر ناگن چورنگی کہا جانے لگا۔

مگر ایک نشریاتی رپورٹ کے مطابق ناگن چورنگی کی جگہ پر کبھی کچا راستہ تھا جہاں سے ریتی بجری کے ٹرک تیز رفتاری سے گزرتے ہوئے راہ گیروں کو ٹکر مار کر ہلاک کردیتے تھے۔
جب حادثات زیادہ بڑھ گئے تو کسی صحافی نے اس مقام کو ناگن سے تشبیہ دے دی ،یعنی وہ مقام جہاں انسانوں ڈسا جاتا ہو۔
بفر زون :

انگریزی کے مطابق لفظ بفرزون کا مطلب 2 دشمنوں کے درمیان کا خالی یا پھرغیرجانبدار ، مگر کراچی میں اس نام سے ایک پورا علاقہ موجود ہے، جس کی کہانی کافی دلچسپ ہے۔
جب کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا تو مہاجرین کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کے قیام کے لیے بھی منصوبوں پر کام کیا گیا تھا اور 1953 میں فیڈرل بی ایریا کے نام سے ایک ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا گیا۔یہ 1948 کے فیڈرل کیپیٹل ٹیرٹری پلان کا حصہ تھا جس کے تحت ایف سی ایریا اور ایف بی ایریا کا قیام وجود میں آیا۔
حکومتی زون کے درمیان کے حصے کو بفرزون کا نام دیا گیا تاکہ حساس مقامات تک لوگوں کی رسائی روکی جاسکے مگر 1959 میں دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہوگیا اور فیڈرل کیپیٹل ایریا کا خیال دم توڑ گیا، ایف بی ایریا موجود رہا مگر خالی علاقہ رکھنے کی ضرورت نہیں رہی اور اس بفرزون میں تعمیرات شروع ہوگئی،اب ایف بی ایریا اور نارتھ ناظم آباد کے درمیان کا علاقہ بفر زون کہلاتا ہے۔
گولیمار :

ویسے تو اس علاقے کا حقیقی نام گلبہار ہے مگر اب تک مشہور یہ گولیمار کے نام سے ہی ہے۔برطانوی راج میں یہ علاقہ غیر آباد ہوا کرتا تھا تو برطانوی فوجی یہاں نشانے بازی کی مشق کرتے تھے ، دوران مشق انسٹرکٹرز کی جانب سے نعرہ لگایا جاتا تھا گولی مار، تو اس طرح سے اس علاقے کا نام گولی مار پڑگیا۔
پاپوش نگر:

گزشتہ زمانے میں اس علاقے میں جوتوں کی صنعت موجود تھی ۔پا اور پوش 2 الفاظ کا مجموعہ ہیں جن کا مطلب جوتے پہننا ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے اس علاقے کا نام پاپوش نگر پڑگیا ۔
بھینس کالونی:

اس نام کی بہت سادی سی کہانی ہے ،وہ یہ کہ اس علاقے کا نام بھینسوں کے باڑوں کی وجہ سے بھینس کالونی پڑگیا ۔
انڈہ موڑ:

اس نام کا مرغی اور انڈوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ کہانی یہ ہے کہ اس مقام پر سے جب بسیں گزرنا شروع ہوئیں اور لوگ وہاں اترنے لگے تو تو وہاں موجود موڑ کے انڈے جیسی شکل کو دیکھ کر کسی کنڈیکٹر نے اسے انڈہ موڑ کہنا شروع کردیا اور اب تک یہ ہی نام چلتا آرہا ہے :
خاموش کالونی:
ایک زمانہ تھا جب یہاں دیگر علاقوں جیسی چہل پہل نہیں تھی بلکہ ویرانی چھائی رہتی تھی،جس کو دیکھتے ہوئے اسے خاموش کالونی قرار دیا اور پھر یہ نام زبان زد عام ہوگیا۔
مچھر کالونی:

اس نام کا تعلق مچھروں سے ہر گز نہیں البتہ مچھیروں سے ضرور ہے۔اس علاقے کا نام کسی زمانے میں مچھیرا کالونی تھا جو چھوٹا ہوکر مچھر کالونی کی شکل اختیار کرگیا۔
دو منٹ چورنگی:
![]()
ایک زمانے میں نارتھ کراچی کی اس چورنگی سے ہر 2 منٹ میں سرکاری بسیں چلا کرتی تھیں ۔ جس وجہ سے یہ دومنٹ مقبول ہوگیا اور پھر اس چورنگی نا م دو منٹ پڑگیا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












