انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی جماعت، ن لیگ کمزور وکٹ پر

بالاخر پاکستان میں انتخابات کے بعد اڑنے والی دھول کا طوفان تھمنے لگا، وفاق میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی حکومت، شہباز شریف وزیر اعظم، پنجاب میں ن لیگ کی مریم نواز، سندھ میں پی پی کے مراد علی شاہ، کے پی میں تحریک انصاف کے علی امین گنڈاپور، بلوچستان میں مخلوط حکومت، گویا طوفان گزر چکا ہے مگر اسکے باقیات طویل عرصے تک سیاسی تنازعات کو جنم دیتے رہینگے اور انتخابی نتائج اشرافیہ کو جھجھوڑتی رہیگی۔
نواز شریف انتخابی نتائج سے مایوسی کے بعد چوتھی مدت سے دستبردار ہو کر سیاسی بساط پر پیچھے چلے گئے اور شہباز شریف کو 16 ماہ کے کریش کورس کے بعد آگے بڑھایا ہے۔ گزشتہ پی ڈی ایم ون کا تجربہ ن لیگ کیلئے قومی اور سیاس حوالے سے گو کہ زیادہ خوشگوار نہیں رہا، اس بار مسئلہ یہ ہے کہ ہیوی مینڈیٹ تو دور کی بات سادہ اکثریت بھی موجود نہیں ہے۔ گزشتہ دور میں نیب کے مقدمات سے چھٹکارا، اسٹیبشمنٹ سے سرپرستی کا حصول، امید ہے یہ سرمایہ پی ڈی ایم ٹو میں ساتھ نظر آئیگا۔
پیپلز پارٹی کے حوالے سے یہ کہنا غلط نہیں کہ تمام سیاسی کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔ بلاول کی نوجوانی اور آصف زرداری کی بزرگی کا امتزاج کامیاب نظر آتا ہے، جس طرح بلاول نے ہنگامہ خیز سیاسی مہم چلائی، سندھ میں بھاری اکثریت کے سوا پنجاب میں بھی ہلچل مچائی ہے۔ پی ڈی ایم ون نے بلاول کو وفاقی سطح پر تربیت اور آصف زرداری کو عدالتی معاملات میں ریلیف دیا ہے۔ مستقبل میں صدر آصف زرداری مفاہمت کی سیاست جاری رکھینگے اور اہم حلقوں کو ساتھ رکھکر مخلوط حکومت کو مشکلات سے بچانے کیلئے مددگار ثابت ہونگے۔
تحریک انصاف، اپریل 2022 میں کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد سیاسی انتشار کا شکار ہے، 9 مئی کے بعد سیاسی کریک ڈائون، اعلیٰ قیادت جیل میں، بڑے رہنما جبری بیدخل، مایوسی، اشتعال اور بیچینی کا شکار، مگر انتخابی نتائج نے نہ صرف اس کے حوصلوں کو بلند کیا ہے بلکہ ن لیگ، پی پی اور اہم حلقوں کو بھی خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ تحریک انصاف اگرچہ فی الوقت سیاسی منظر نامے پر خود کو جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے مگر ایک مضبوط اپوزیشن ثابت ہو گی، خاص طور پر سنگین چیلنجز کے دور میں اتحادی حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج، جس کو یہ احساس ہے کہ اصل عوامی مینڈیٹ اسکے ساتھ ہے۔
پی ٹی آئی کا پروپیگنڈہ اور بیانیہ اتنا موثر ہے کہ یہاں تک کہ اعلیٰ سطحی، تجربہ کار اور پڑھے لکھے شہری جو کہ قوم پرستی اور قومی اداروں سے وابستگی میں اچھی طرح سے جڑے ہوئے ہیں، بھی پست ہو جاتے ہیں۔ پروپیگنڈے میں ’ایکو چیمبر‘ کی تکنیک ذہنوں کو متاثر کرتی ہے، اور بہت سے تجربہ کار ریٹائرڈ بیوروکریٹس، سول اور ملٹری، اب ساری زندگی بھر’گرے‘ کو سنبھالنے کے باوجود چیزوں کو ’سیاہ اور سفید‘ میں دیکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ‘ناراض’ اور ‘ہمدردی’ ووٹوں سے غیر متناسب فائدہ اٹھایا۔ پی ٹی آئی کو ‘ناراض’ ووٹ ‘ظاہری طور پر’ طاقتور حلقوں کے سامنے کھڑا ہونا (پردے کے پیچھے پیغامات کے باوجود)؛ اور ‘ہمدردی’ اس کی قید قیادت اور سمجھی جانے والی ریاستی زیادتیوں کو ووٹ دیتی ہے۔ انڈر ڈاگ ہونے کا تصور پاکستانی سیاست میں ہمیشہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔
جے یو آئی ایف کے فضل الرحمان کی طرح دیگر سیاسی کھلاڑیوں کی طرف سے کی جانے والی چھیڑ چھاڑ محض مطابقت، اثر و رسوخ اور مالیاتی نقصان کے بارے میں ظاہر کردہ خدشہ ہے، مولانا فضل الرحمان اگرچہ انتخابات میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے، مگر بڑے سیاسی کھلاڑی کے طور پر کسی وقت بھی ایسا کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ سیاسی منظر نامے کے اہم ترین کھلاڑی بن جائیں۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، پوری سیاسی منظر نامے پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے، قومی اسمبلی کی 18 نشستیں اسے بھی بڑال سوال، بہرحال چونکہ ایم کیو ایم ہر دور میں حکومت کیساتھ رہنے کی عادت میں مبتلا ہے تو اقتدار کا دامن چھوڑنا آسان نہ ہو گا۔ اگرچہ ن لیگ اور پی پی کے بعد مخلوط حکومت میں ایم کیو ایم کی کوئی اہمیت نہیں نہ ہی پاور پالیٹیکس کی گنجائش بچتی ہے۔ مگر حکومت کیساتھ نتھی ہونا ایک مجبوری ہو سکتی ہے چونکہ پیپلز پارٹی اسکے خلاف ہے۔ اور اگر یہ جماعت اپوزیشن میں بیٹھتی ہے تو تحریک انصاف جیسی مضبوط اپوزیشن کے سامنے کوئی اہمیت حاصل کرنیکا امکان موجود نہیں ہے۔
سیاسی بساط کو غور سے دیکھیں تو بازی اگر، مگر، چنانچہ کے گرد گھوم رہی ہے۔ مخلوط حکومت بیشمار دھاندلی الزامات کے بعد عوامی طاقت سے محروم، ن لیگ اور پی پی کے اندرونی سیاسی تحفظات، اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی، اس کھیل میں شاید بہت کچھ ایسا ہے کہ بازی شروع ہوتے ہی شہ مات ہو سکتی ہے۔
انتخابات میں تحریک انصاف کو ملنے والا ہیوی مینڈیٹ، پردے کے آگے اور پردے کے پیچھے، دونوں فیصلہ سازوں کیلئے ڈرائونا خواب ثابت ہوا ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 100 ارکان منتشر سیاسی قیادت کے باوجود ایک مسئلہ ثابت ہونگے، خیبر پختونخوا میں علی امین گنڈا پور کی صوبائی حکومت وفاق کیلئے انوکھا درد سر ثابت ہو سکتی ہے۔
سیاسی بساط پر مہرے اپنی اپنی جگہ موجود ہیں، سیاست کا کھیل شروع ہو چکا ہے، سب سانس روکے بساط پر ہونیوالی چالوں کو دیکھ رہے ہیں، کیا ہوتا ہے، کون سی چال کس کو گراتی ہے، مگر کسی کی نظر عالمی بساط پر نہیں، جہاں پاکستان کو شہ مات ہونے کا اصل خدشہ ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












