بدھ، 8-جولائی،2026
بدھ 1448/01/23هـ (08-07-2026م)

صدی کا سب سے بڑا جنازہ، شہید سید علی خامنہ ای کی الوداعی رسومات قومی یکجہتی کا مظہر بن گئیں

08 جولائی, 2026 11:05

ایران کے مقتول رہنما سید علی خامنہ ای شہید کا ہفتہ بھر جاری رہنے والا جنازہ مشرقِ وسطیٰ کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی اور مذہبی اجتماع بن گیا ہے، جو قومی یکجہتی کا مظہر ہے۔

ایران کے انقلابی اور روحانی رہنما سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے ارکان، جن میں ان کی 14 ماہ کی پوتی بھی شامل تھی، کی اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں شہادت کو 4 ماہ گزر چکے ہیں۔

اس وقت ایران اور عراق کے متعدد بڑے شہروں میں ان کی یاد میں ایک ہفتہ طویل الوداعی اور تشییع جنازہ کی رسومات جاری ہیں۔ اس اجتماع کو’صدی کا سب سے بڑا جنازہ‘ کہا جا رہا ہے، جس میں لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ شریک ہیں۔

گرمی کی شدید لہر کے باوجود عوام کا یہ تاریخی سمندر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایرانی معاشرہ اپنے سیاسی اور مذہبی بیانیے کے ساتھ گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔

تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ اجتماع محض ایک مقتول رہنما کا سوگ نہیں ہے بلکہ بیرونی دباؤ اور عالمی طاقتوں کے سامنے ایرانی عوام کی قومی یکجہتی، نظریاتی تسلسل اور مضبوطی کا ایک کھلا اور بڑا مظاہرہ ہے۔

اس وسیع پیمانے پر عوام کو سنبھالنے کے لیے ایران کے تمام سرکاری اداروں، یونیورسٹیوں، مزدور تنظیموں، ہنگامی خدمات اور رضاکاروں کو متحرک کیا گیا ہے، جو تہران، نجف اور کربلا کے درمیان سفر کرنے والے زائرین کو سفری، طبی اور سیکیورٹی کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بدمعاشی اور زبردستی کا دور ختم ہو چکا، ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، قالیباف

یہ بے مثال جنازہ اب صرف ایک تعزیتی تقریب نہیں رہا بلکہ ایک ایسا سیاسی منظر نامہ بن چکا ہے، جس کے اثرات خطے کی سرحدوں سے باہر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

یہ اجتماع بیک وقت ایران کے اندرونی حلقوں، خطے کے اتحادیوں اور عالمی دشمنوں کو ایک طاقتور پیغام دے رہا ہے۔ اس بھیڑ میں لوگ اپنے ذاتی غم کو ایک اجتماعی طاقت میں بدل رہے ہیں، جو دنیا بھر میں جاری مزاحمتی تحریکوں کے لیے ایک نئی توانائی فراہم کر رہا ہے۔

اجتماع کے دوران شرکاء کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی، جن میں ’مرگ بر امریکہ‘ اور ’مرگ بر اسرائیل‘ کے روایتی نعروں کے علاوہ ’انتقام‘ اور ’اے خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے والو‘ جیسے جذباتی اور انقلابی نعرے گونجتے رہے۔

ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت کی اس جنازے میں مسلسل شرکت نے دشمنوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں کے باوجود ایران کا داخلی نظام اور قیادت کا ڈھانچہ مستحکم اور محفوظ ہے۔

یہ شرکت ظاہر کرتی ہے کہ ملک کی اس نازک عبوری مدت کے دوران استحکام برقرار ہے اور خطہ ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں پرانی طاقتوں کا توازن بگڑ رہا ہے اور ایک نیا علاقائی نظام جنم لے رہا ہے۔

اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کی جانب سے نئے رہنما سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حق میں ’لبیک یا سید مجتبیٰ‘ کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام کو نئی قیادت پر مکمل اعتماد ہے اور وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ہر قسم کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ جنازہ ثابت کرتا ہے کہ ایرانی ریاست صرف اوپر سے مسلط کردہ نظام نہیں ہے بلکہ یہ عوام کے گہرے سماجی اتفاقِ رائے پر قائم ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔