جمعرات، 23-جولائی،2026
جمعرات 1448/02/09هـ (23-07-2026م)

کیا امریکہ ایران پر زمینی حملہ کرنے والا ہے؟

21 جولائی, 2026 11:25

مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی موجودگی اور حالیہ حملوں کی نوعیت کے پیش نظر ماہرین ایران پر امریکی زمینی حملے کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اعلیٰ الرٹ کی حالت میں موجود ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکی حملوں کا دائرہ کار محض فضائی دفاعی سسٹمز، ریڈاروں اور بحری صلاحیتوں سے نکل کر ایران کے جنوبی اضلاع کے اہم انفراسٹرکچر تک پھیل چکا ہے۔

16 اور 17 جولائی کو ہرمزگان صوبے میں بندر خمیر کا ریلوے اسٹیشن، 3 پل اور روڈ ٹنل کو نشانہ بنایا گیا تاکہ بندر عباس بندرگاہ کا اندرونی حصوں سے رابطہ منقطع کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ چابہار کا میرین ٹاور، سرخور طاہروئی کی بندرگاہ، ایران شہر ایئرپورٹ اور سیستان و بلوچستان اور خوزستان میں قائم ایرانی مسلح افواج کی 88 ویں اور 92 ویں آرمرڈ ڈویژنز کے مراکز پر بمباری کی گئی۔

حملوں کی اس بدلتی ہوئی نوعیت نے دفاعی ماہرین کو اس سوچ پر مجبور کر دیا ہے کہ واشنگٹن محض آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے بجائے کسی محدود زمینی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔

سیاسی اور دفاعی مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کا ہدف ایران کی اہم ساحلی پٹی پر کنٹرول حاصل کرنا یا اس کے اسٹریٹجک جزائر پر قبضہ کرنا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پینٹاگون نے ایرانی حملوں میں 100 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک عارضی سیز فائر کو زمینی فوج کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور اس سلسلے میں کویت میں امریکی فوج کا اجتماع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاہم کئی دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ 8 کروڑ 80 لاکھ سے زائد آبادی والے ملک پر مکمل قبضہ کرنے کے لیے امریکہ کو کم از کم 17 لاکھ فوج درکار ہوگی، جو اس کے پاس موجود نہیں، اور اگر صرف ساحلی پٹی کا کنٹرول سنبھالنا ہو تو بھی ڈھائی لاکھ سے 4 لاکھ فوج چاہیے ہوگی جبکہ اس وقت خطے میں محض 50 ہزار اہلکار موجود ہیں۔

ایران نے اس ممکنہ خطرے کے پیش نظر پہلے سے ہی اپنی حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے کویت میں کیمپ بوہرنگ اور دیگر اڈوں پر موجود امریکی فوجیوں کی ان جگہوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں، جہاں سے لاجسٹک مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔

فجیرہ بندرگاہ کو جہاں امریکی بحری جہازوں کے لیے ایندھن کا مرکز بنایا گیا تھا، اسے بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کے روس میں سفیر اور دیگر اہم سفارتی اور ملٹری حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکی افواج نے ایرانی سرزمین پر قدم رکھا تو یہ ایک واقعی جنگ ہوگی اور وہ امریکی فوجیوں کو مار کر اور قید کر کے دشمن کے تمام ارادے خاک میں ملا دیں گے۔

اگرچہ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ایک مکمل زمینی قبضہ ناممکن نظر آتا ہے، لیکن ساحلی علاقوں پر چھوٹے آپریشن سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جس کے لیے ایران خود کو مکمل طور پر تیار کر چکا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔