صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی اور ایک نئی نہ ختم ہونے والی جنگ کا خطرہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو کبھی دنیا بھر میں جاری جنگوں کو ختم کرنے کے دعوے کی بنیاد پر نوبل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے، اب ایران کے خلاف اپنی فوجی طاقت کا استعمال انتہائی غیر سنجیدہ انداز میں کر رہے ہیں۔
واشنگٹن کی جانب سے فوجی طاقت کو اب سفارت کاری پر مجبور کرنے کے لیے ایک عام ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشینری کو حرکت میں لانا کسی بھی امریکی کمانڈر ان چیف کی سب سے سنگین ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے میں حد سے زیادہ جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
پینٹاگون اگرچہ امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی معلومات کو عوام سے چھپا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطے میں خطرات 100 فیصد حقیقی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
فروری سے اب تک ہونے والے فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں میں ہزاروں ایرانی شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ حالیہ جھڑپوں میں بھی درجنوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
تشدد اور فوجی طاقت کے اس مسلسل استعمال کو معمول کی بات سمجھنا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ اس خطرے کو صحافیوں کے سامنے ایک عام اور معمولی گفتگو کی طرح پیش کرتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا مفاہمت کا معاہدہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور جنگ بندی کا تحفظ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ اکثر صحافیوں سے بات چیت کے دوران ایران کو ’’تباہ‘‘ کرنے کی دھمکیاں اتنے آرام سے دیتے ہیں، جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کو بڑی حد تک پتھر کے دور میں دھکیل دیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
یہ رویہ نہ صرف فوجی طاقت کے اخلاقی استعمال پر سوال کھڑا کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے پلوں اور پاور پلانٹس جیسے سویلین بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے، جسے قانون دان اور عالمی قوانین کے ماہرین واضح طور پر ایک جنگی جرم قرار دیتے ہیں۔
جب روس یوکرین میں اس طرح کے شہری اہداف کو نشانہ بناتا ہے تو مغربی دنیا اس پر شدید احتجاج کرتی ہے، لیکن ٹرمپ خود ان قوانین کو پامال کرنے کی کھلی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ماضی کی دہائیوں میں امریکہ فوجی طاقت کے استعمال سے گریز کرتا تھا تاکہ پینٹاگون کا رعب برقرار رہے اور اگر وہ کہیں لڑتا بھی تھا تو اس کی واضح وجوہات دنیا کے سامنے پیش کرتا تھا۔
لیکن ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں امریکی پالیسی بدل چکی ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کو دارالحکومت سے اغوا کرنے کی مہم اگرچہ امریکی مفاد میں رہی، لیکن اس نے اس عالمی اصول کو توڑ دیا کہ آپ کسی ملک کے موجودہ سربراہ کو صرف اس لیے اغوا نہیں کر سکتے کہ آپ اسے پسند نہیں کرتے۔
یوکرین اور دیگر خطوں میں جنگیں ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے ٹرمپ اب ایران کے ساتھ خود اپنی ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اس تصادم کے مقاصد مبہم ہیں اور امریکی عوام میں اس کی مقبولیت ختم ہو چکی ہے۔ ایران پر اب تک 13 ہزار سے زائد فضائی حملے کیے جا چکے ہیں، لیکن وہ تباہ ہونے کے بجائے اپنی عسکری صلاحیت کو دوبارہ بحال کر چکا ہے۔
امریکہ کے لیے اب اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کو برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے جبکہ ایران اپنے فوجی کمانڈروں کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے، جس سے امریکی طاقت کی حدود دنیا پر واضح ہو رہی ہیں۔
ٹرمپ نے یہ جنگ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے زیرِ اثر آ کر بغیر کسی ٹھوس حکمتِ عملی کے شروع کی ہے، جس کا انجام خطے کے لیے انتہائی ہولناک ہو سکتا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












