پاکستان کا 15 برس بعد ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق بڑا فیصلہ

فوٹو — فائل
اسلام آباد:پاکستان نے 15سال بعد آئی پی گیس پائپ لائن منصوبے پر بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس منصوبے سے متعلق پاکستان نے عالمی لیگل فرم سے قانونی تجویز حاصل کی تھی جس پر عالمی لیگل فرم نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ توانائی منصوبہ شروع کیا توامریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اس تجویز پر وزارت خزانہ نے اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ سے رائے لینے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان امریکا سے آئی پی منصوبے پر پابندیوں سے استثنیٰ بھی مانگے گا کیونکہ ایرانی بارڈر سے گوادر تک پائپ لائن بچھانے پر بھی امریکی پابندی کا سامنا کرناپڑسکتا ہے۔
اس اجلاس میں کابینہ کمیٹی نے ایرانی بارڈر سے گوادر تک 81 کلومیٹر پائپ لائن بچھانے کی منظوری بھی دی،پائپ لائن بچھانے سے پاکستان 18 ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی سے بچ جائے گا۔
ایران سے گیس خریدنے کے نتیجے میں پاکستان کو سالانہ 5 ارب ڈالر سے زائد بچت ہوگی،ایل این جی کے مقابلے میں ایران سے 750 ملین کیوبک فٹ گیس انتہائی سستی ملے گی۔
واضح رہے منصوبہ شروع ہونے پرایران، فرنچ قانون کے تحت 18 ارب ڈالر جرمانے کا نوٹس واپس لے گا۔
وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے کہا کہ ایرانی بارڈر سے گوادر تک پائپ لائن بچھانے کا فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے،ایران سے ملنے والی سستی گیس سے صنعتوں کو خطیر فائدہ ہوگا۔
واضح رہے ایرانی بارڈر سے گوادر تک پائپ لائن کی تعمیر پر 45 ارب روپے لاگت آئے گی۔
یہ پڑھیں : پاکستان کا ایران کیساتھ گیس لائن منصوبہ 2 مراحل میں مکمل کرنے کا فیصلہ
Catch all the پاکستان News, معیشت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











