جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

معاشی بحران کے شکار ملک میں ڈیجیٹل اکنامی پر خوفناک حملہ

25 فروری, 2024 15:27

 

پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے تو دوسری طرف آئی ٹی سیکٹر کو بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز معاشی بحالی کی سب سے بڑی امید ہیں، ڈیجیٹل اکنامی کسی بھی ملک کی معیشت کا اہم ترین ستون ہیں۔ مگر پاکستان میں معاشی بحالی چیلنجز سے نمنتنے کیلئے سب سے پہلا حملہ ڈیجیٹل اکنامی پر کیا جاتا ہے کیوں؟ سرکاری نااہلی اور سیاسی ناکامی کا بوجھ آئی سیکٹر پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟

انٹرنیٹ اور اس کی ایپلی کیشنز نے جو بڑی تبدیلیاں لائی ہیں ان میں سے ایک بہت سے پہلوؤں سے لوگوں کو قریب لانا ہے۔ اس نے معاشی مضمرات بھی لائے ہیں کہ اس نے لوگوں کو کام کے قریب لایا ہے۔ وہ دور سے کام کر سکتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ LinkedIn پر کلائنٹس کے ذریعے فری لانس پراجیکٹس کو تلاش کر سکتے ہیں یا پارٹیوں سے براہ راست ٹویٹر پر پروجیکٹس کے لیے پوچھ سکتے ہیں۔

سابق وزیر آئی ٹی امین الحق نے گزشتہ سال اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سوشل میڈیا سائٹس اور اس کی ایپلی کیشنز کو دوبارہ کبھی بند نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، اس کے بعد سے، ملک کو شاید پہلے سے کہیں زیادہ شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر خدمات، صرف کاروبار، میڈیا کیلئے نہیں بلکہ اب تو ہر گھر کی ضرورت ہیں۔ معاشرے کی کنکٹ کر کے ضروریات پورا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سافٹ ویئر ہائوسز، امپورٹ ایکسپورٹ، بینکاری، فری لانسرز، سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بار بار بلاک ہونے سے انٹرنیشنل کلائنٹس کا اعتماد ہی ختم ہو جاتا ہے جو پھر کسی اور ملک کا رخ کرتے ہیں۔

صرف پاکستان میں ہی ایسا کیوں ہوتا ہے کہ سیکورٹی خدشات پر انٹرنیٹ سروس بند کی جاتی ہے، دنیا کے متعدد ممالک میں سیکورٹی خدشات ہم سے زیادہ ہیں مگر شاید انکے اعلیٰ حکام بھی ہم سے زیادہ ذہین اور قابل ہیں۔ ہماری حکومت کے پاس پابندی کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں اور شاید اسکی قابلیت بھی نہیں کہ نقصان کا اندازہ لگا سکیں یا کوئی متبادل ڈھونڈ لیں۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پراجیکٹس میں مسلسل تاخیر کے بعد انٹرنیشنل کلائنٹس پاکستان کو برامد کنندگان کی فہرست میں کہیں نیچے رکھتے ہیں چونکہ انکو یہ اعتماد نہیں کہ ڈیڈ لائن پوری کی جا سکے گی۔ نگراں وزیر آئی ٹی بھی بلند و بانگ دعوے تو کرتے نظر آتے ہیں مگر حل انکے پاس بھی نہیں بلکہ خطرناک پوزیشن کی وضاحت کیلئے بھی کہیں نظر نہیں آتے۔

انٹرنیشنل آئی ٹی مارکیٹ میں پاکستان نیچے گرتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے پاس دنیا کی دوسری سب سے بڑی آن لائن فری لانس افرادی قوت ہے، جس میں تقریباً 10 لاکھ افراد شامل ہیں۔ لیکن پاکستانی فری لانسرز عالمی فری لانسنگ انڈسٹری میں جمع ہونے والی رقم کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں جہاں بہت کم تعداد میں فری لانسرز زیادہ رقم اکٹھا کر رہے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ خدمات کی بروقت فراہمی پر اعتماد کا فقدان ہو سکتا ہے۔

یہ ہڑھیں : امریکا میں انٹرنیٹ سروس کئی گھنٹوں بند رہنے کے بعد بحال

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, معیشت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔