جمعہ، 14-اگست،2026
جمعہ 1448/03/01هـ (14-08-2026م)

سرکاری اسکولوں کے معیارِ تعلیم پر بڑا سوال، ٹاپ سرکاری کالجوں میں صرف 7 فیصد طلبہ داخلہ لے سکے

10 اگست, 2026 12:10

کراچی کے بڑے سرکاری کالجوں میں داخلوں کے اعداد و شمار نے سرکاری اسکولوں کے معیارِ تعلیم پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

کراچی کے 10 بڑے سرکاری کالجوں میں ہونے والے 13 ہزار 211 داخلوں میں سے صرف 947 طلبہ کا تعلق سرکاری اسکولوں سے نکلا، یعنی مجموعی داخلوں میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ کا حصہ تقریباً 7 فیصد رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق ان کالجوں میں تقریباً 93 فیصد داخلے نجی اسکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ نے حاصل کیے، جس سے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار، تدریسی نظام اور طلبہ کی تیاری سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

آدم جی سائنس کالج میں مجموعی طور پر 613 طلبہ نے داخلہ لیا، تاہم ان میں سے صرف 28 طلبہ کا تعلق سرکاری اسکولوں سے تھا۔

ڈی جے سندھ سائنس کالج میں 1,258 داخلوں میں سرکاری اسکولوں کے صرف 44 طلبہ شامل ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں داخلے نجی اسکولوں سے آنے والے طلبہ نے حاصل کیے۔

دہلی گورنمنٹ سائنس کالج میں مجموعی طور پر 801 طلبہ نے داخلہ لیا، جن میں صرف 28 طلبہ سرکاری اسکولوں سے تعلیم حاصل کرکے آئے تھے۔

گورنمنٹ بوائز کالج ناظم آباد میں 1,317 داخلوں میں سرکاری اسکولوں کے صرف 60 طلبہ شامل ہوسکے۔

یہ اعداد و شمار کراچی کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار اور طلبہ کی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسابقتی تیاری کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں بڑی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہونے کے باوجود ٹاپ سرکاری کالجوں میں ان کی نمائندگی انتہائی کم ہونا تعلیمی نظام میں موجود خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین تعلیم کے مطابق سرکاری اسکولوں میں تدریسی معیار، اساتذہ کی حاضری، نصاب پر عمل درآمد، بنیادی سہولیات اور طلبہ کی تعلیمی رہنمائی کو بہتر بنائے بغیر اس فرق کو کم کرنا مشکل ہوگا۔

Catch all the تعلیم News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔